میری پونجی — Page 167
کہنے سے ایک دن کہنے لگے تمہارے پاس پین اور پیپر ہے۔میرا جواب تھا کہ جی ہے۔مجھے کہتے ہیں بہت دل کرتا ہے لکھوں، مگر طاقت نہیں ہے۔تم لکھو میں لکھواتا ہوں : میں نے لکھنا شروع کیا تو بولے لکھو! ہسپتال میں سامی کے ساتھ ڈھلتی ہوئی ایک شام ! میرے گھر کی بہارو! انسانی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں کب بلا وا آ جائے۔جو بھی اللہ کی رضا ہو اُس پہ راضی ہوں صبر اور تحمل سے وقت گزار ہیں۔خدا کرے کہ آپ سب کو زندگی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔میری زندگی کا اب کوئی اعتبار نہیں کہ سانس آئیگا۔اللہ پر بھروسہ ہے کہ میں صحت مند ہو کر گھر آؤنگا۔اور آپ سب کی خوشی میں شامل ہونگا۔جو بھی مشکل پیدا ہو اُسکو محبت پیار سے حل کریں۔سب بھائیوں کو چاہئے کہ اگر تقدیر آگئی تو ماں اور بہنوں کو ہمیشہ عزت دیں اور پیار سے رکھیں۔مجھے اپنے سب بچوں سے پیار ہے۔لیبنی سے، منیر سے ، بلال سے، سارہ سے اور عکاشہ سے اور اسی طرح شازیہ سے مبشرہ سے، گوہر اور مصور سے اور اُن سب کے بچے میرے ہر دل عزیز ہیں۔خدا کرے کہ مجھے تو فیق ملے اور میں صحت مند ہو کر ان میں آکر بیٹھوں۔آپ سب کو میرا بہت پیار۔آخر میں میری آپ سب بچوں کو ایک ضروری نصیحت ہے کہ ہمیشہ آپ سب بہن بھائی اک دوسرے کا احترام کریں اور سلوک سے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ، ناصر ہو۔8/7/2001 آپ کے ابو (اپنے ہاتھ سے دستخط کئے اور تاریخ لکھی ) نماز جنازه (167) بشیر الدین احمد سامی