میری پونجی — Page 164
ضرور ہیں جو اُنہوں نے لوگوں کے ساتھ کی ہیں اور وہ لوگوں کو یاد بھی ہیں۔الحمد للہ۔آپ کو عبادت اور دعاؤں پر بہت یقین تھا۔ہمیشہ پورے روزے رکھتے۔رات کو عبادت کا شوق تھا۔اکثر صبح اُٹھ کر مجھے جو خواب سناتے تھے۔اُن میں ہم یا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتے تھا۔بلکہ ہمیشہ حضرت مصلح موعود یا خلیفہ رابع یا وہ تمام بزرگ جن کا تعلق قادیان سے ہوتا۔بہت کم گو تھے مگر جب قادیان کی باتیں شروع ہو جا تیں تو کبھی نہیں تھکتے تھے۔سادہ مزاج کے مالک تھے مگر بہت نفیس اور سلیم الطبع انسان تھے۔سامی صاحب کی آخری بیماری سامی صاحب کی بیماری بھی اچانک ظاہر ہوئی۔ڈاکٹروں کے پاس جاتے رہے چیک اپ بھی ہوئے میں ہمیشہ اُن کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔جس دن ڈاکٹروں نے اس موذی مرض کینسر کی تشخیص کی اُس وقت بھی میں ساتھ ہی تھی۔میں تو دل میں کانپ گئی مگر اپنے ہوش قائم رکھے۔سامی نے ڈاکٹروں کی بات سُن کر چہرے پر کوئی گھبراہٹ ظاہر نہیں ہونے دی۔صرف اتنا کہا کہ میں کوئی آپریشن نہیں کروانا چاہتا۔جتنی بھی زندگی خدا تعالیٰ نے مجھے دی ہے میں دین کے کام میں صرف کرنا چاہتا ہوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ڈاکٹروں نے ایک چھوٹا سا کی ہوں، آپریشن ضروری سمجھا جو صرف ایک دن کا تھا۔اپنے ڈاکٹر دوستوں سے بھی مشورہ کیا۔پیارے آقا سے دعاؤں کی درخواستیں بھی کرتے رہے۔سب نے بہت تسلیاں بھی دیں۔پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے پروگرام بنالیا۔جس دن آپریشن کیلئے جانا تھا صبح مجھے خواب سنائی کہ رات بار بار ایک شعر میری زبان پر آتا رہا اک نہ اک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے اور پھر واقعی ہماری کوئی پیش نہیں چلی۔چل بھی کیسے سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔آپریشن نہیں کروانا چاہتے تھے۔آپریشن ہوئے ، ایک نہیں کئی ہوئے۔پھر کوئی شکوہ کوئی شکایت (164)