میری پونجی

by Other Authors

Page 163 of 340

میری پونجی — Page 163

نے ہی کروائی جو الحمد للہ بہت خوش خرم زندگی گزار رہے ہیں۔اب اُن کے بھی تین بیٹے ہیں۔پھر زرینہ اہلیہ محمود احمد مختار مرحوم بہت سخت بیمار ہو گئیں۔کینسر جیسے موذی مرض نے گھیر لیا۔اس وقت بھی سامی ساحب نے اُن بچوں کا بہت ساتھ دیا۔آخری دنوں میں ہم تقریباً ہر روز شام کو اُن کے پاس وٹفورڈ ہسپتال جاتے رہے۔اُس آخری وقت بھی مرحومہ نے ایک ہی بات کی کہ میرے بعد میرے بچوں کا آپ ضرور خیال رکھیں۔جہاں تک ہو سکا سامی صاحب نے اُن کی اس بات کا خیال رکھا۔آج بھی جب بچیاں ملتی ہیں بہت پیار اور خلوص سے ملتی ہیں۔الفضل انٹرنیشنل میں جب میرا پہلا مضمون چھپا تو کچھ عرصہ کے بعد جرمنی سے میری ایک سکول کی دوست کا مجھے فون آیا۔جب ہم پشاور میں رہتے تھے تو وہ بھی وہاں ائیر فورس کے ملازم ہو کر آئے تھے۔وہ کچھ عرصہ میرے گھر بھی رہی۔اُس نے سامی صاحب کا افسوس کیا اور کہا کہ صفیہ الفضل میں سامی صاحب کے بارہ میں جو مضمون تم نے لکھا وہ میں نے پڑھا ہے لیکن ادھورا ہے۔کیا تمہیں یاد نہیں کہ جب ہم پشاور تمہارے پاس آئے تھے تو میں نے بھائی سامی سے درخواست کی تھی کہ میرے میاں احمدی نہیں ہیں ان کا کچھ خیال کریں۔جمعہ پر اور کچھ تبلیغی پروگراموں میں ساتھ لیکر جائیں اور پھر الحمد للہ بھائی جان کی کوششوں سے میرے شوہر نے بیعت کی اور آج ہم اور میری ساری اولا دان کو دعا دیتے ہیں۔جب ہم لندن آئے تو میرے سب بچوں نے بروک وڈ میں جا کر اُن کی قبر پر دعا کی۔اللہ تعالیٰ کا احسان مانا کہ شکر ہے ہمارا ایک ایسے نیک سیرت انسان سے واسطہ ہوا جس نے ہمارے باپ کو دین کا سیدھا راستہ دکھایا آج ہماری نسلیں حقیقی اسلام میں پھل پھول رہی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ بے شمار باتیں اور یادیں انسان بھول جاتا ہے۔میں بھی جو آج یہ سب کچھ لکھ رہی ہوں جتنا مجھے یاد آرہا ہے وہی لکھ رہی ہوں یقینا ابھی بھی بہت کچھ ہو گا جو مجھے یاد نہیں۔لیکن ہاں یہ ضرور جانتی ہوں کہ خدا کے فضل سے سامی صاحب کے کھاتہ میں بے شمار ایسی نیکیاں (163)