میری پونجی — Page 145
بڑے پن کو میں ہمیشہ سلام کرتی ہوں اور آج بھی نمازوں میں اُن کیلئے دعا کرتی ہوں انہوں نے سب باتوں کو بھلا کر پہلے سامی صاحب کی اور پھر میری مدد کی حامی بھر لی۔میں نہیں جانتی تھی کہ لندن کیسے جانا ہے صرف اتنا جانتی تھی کہ انشاء اللہ جانا ضرور ہے۔اللہ کا نام لیکر پھر بھائی جان سمیع اللہ کے پاس گئی اور کہا کہ بھائی جان جیسے سامی صاحب کو لندن چھوڑ کر آئے ہیں میری بھی مدد کریں۔پہلے تو بہت غصہ سے مجھے دیکھا پھر کہنے لگے تم میری ایسی بہن اور کزن ہو جس کے ساتھ میں ناراضگی کے باوجود اس کی بات نہیں ٹال سکتا ، کہنے لگے بولو کیا چاہتی ہو؟ غرض میں نے اپنی ساری قصہ کہانی سنائی اور کہا بھائی جان جو بھی کرنا ہے آپ نے ہی کرنا ہے۔میں یہ دل سے جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اگر کوئی میری مدد کر سکتا ہے تو وہ بھائی جان سمیع اللہ ہی کر سکتے ہیں۔بھائی جان نے کہا کہ میں پوری کوشش کرونگا آگے تمہاری قسمت۔میرا اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ تھا اور یہ کہ محنت اور جدوجہد میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے اور میں نے محنت اور جدو جہد کی ٹھان لی تھی۔میرا خدا بھی میری مدد کر رہا تھا۔نہیں جانتی بھائی جان نے کیسے اور کن کن لوگوں سے بات کی فوری طور پر خود سے کرایہ کا بھی انتظام کیا اور مجھے جہاز میں سوار کر وا دیا۔بھائی جان خود تو ائیر پورٹ پر نہیں آئے مگر گھر سے اپنی کار میں ہی رخصت کیا اور ایک تفصیلی خط بھی ساتھ لکھ دیا جس میں جہاز کا نقشہ اور راستہ میں آنے والی متوقع مشکلات اور ان کا حل سمجھایا ہوا تھا۔میں آج جو بھی ہوں اور میرے بچے بھی جس جس پوزیشن پر ہیں ان سب میں میرے بھائی جان سمیع اللہ صاحب کا بہت بڑا حصہ ہے اور اس احسان کو میں ہمیشہ دعاؤں کے ذریعہ ادا کرتی رہتی ہوں۔اللہ پاک اُن کو جزائے خیر دے۔بھائی جان صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ وہ ہر ایک کے کام آنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ اُنکو انکی نیکیوں کا احسن رنگ میں بدلہ دے۔اب میں تھوڑا سا اس بات کا ذکر کرلوں جو میں نے ربوہ میں دو سال اپنی امی جان اور اپنی دو بہنوں اور بھائی کے ساتھ گزارا تھا۔سامی صاحب جب لندن کے لیے روانہ ہوئے تو بلال میرا بیٹا چھ ماہ کا تھا، منیر تین سال کا اور لبنی پانچ سال کی تھی۔بچے پہلے پہل تو اپنے ابو کو بہت بہت یاد کرتے (145)