میری پونجی

by Other Authors

Page 146 of 340

میری پونجی — Page 146

تھے مگر میری بہنوں عزیز ، بشری اور میرے بھائی خالد کے پیار نے بچوں کے دل جیت لیئے اور اُمی جان نے پیار اور مزے مزے کے کھانوں سے ہمیں بہلا لیا۔عزیز نے منیر کو بشریٰ نے لبنی کو اور بلال کو تو نہ صرف گھر والوں بلکہ حق ہمسائیوں نے بھی گود لے لیا تھا۔ہر روز رات کو خالد جب تک بچوں کو سوڈا واٹر نہ پلا لے وہ سوتے نہیں تھے۔اتنا لاڈ پیار دیا کہ جب میں لندن کے لیے تیار ہوئی تو بچوں نے لندن آنے سے انکار کر دیا۔جہاز میں بھی ایک ہی رونا تھا ماموں کے پاس جانا ہے ابو پاس نہیں جانا۔لندن آکر کافی وقت لگا اُن کو اور اپنے آپ کو سنبھالنے میں۔میں زندگی بھر اُن دوسالوں کو جوا اپنی امی اور بہنوں اور بھائی کے ساتھ گزارا بھی نہیں بھول پاؤں گی۔وہ میری زندگی کا سرمایہ تھا جن کی یاد ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے۔ربوہ میں جب ہم رہتے تھے تو بلال جو اُس وقت دو سال کا ہوگا اُس کا ایک لطیفہ لکھ دیتی ہوں۔امی جان گھر میں باورچی خانہ بنوا رہی تھیں۔کچن مکمل ہونے کی خوشی میں مزدوروں کیلئے لڈومنگوا کر اُن کو دیئے کہ کام ختم ہو تو کھا لیں۔مزدور نے پکڑ کر ایک الماری میں رکھ دیئے۔رکھتے ہوئے بلال نے دیکھ لیا وہ میٹھے کا بہت شوقین تھا اُس کو یہ تو علم نہیں تھا کہ کس کے ہیں۔میں کھاؤں یا نہ کھاؤں۔اُس کو یہ پتہ تھا کہ لڈو یہاں پڑے ہیں ، اُس نے وہاں سے لڈو اُٹھائے کچھ خود کھائے اور کچھ باہر جا کر بچوں میں بانٹ دیئے۔ایک مزدور نے جب دیکھا کہ باہر بچوں کا میلہ کیوں لگا ہوا ہے تو پتہ چلا چھوٹے چھوٹے بچے سب لڈو کھا رہے ہیں اور خوش ہو رہے ہیں۔میرے ابا جان کو یہ لطیفہ بہت پسند تھا اور ہمیشہ سب کو سناتے اور کہتے یہ لڈو چور ہے۔میرا بچوں کے ساتھ لندن آنا چالیس سال پرانی باتیں لکھنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر بہت کچھ بھول چکی ہوں۔پاکستان سے تو یہی طے تھا کہ مجھے کوئی بھی ائیر پورٹ پر لینے نہیں آئے گا۔میں نے اپنے تینوں بچوں کے ساتھ پہلی بار جہاز کا سفر شروع کیا۔بچے راستہ بھر الٹیاں کرتے رہے۔ائیر ہوسٹس جو بھی کھانے کو دیتی یہ سمجھ (146)