میری پونجی — Page 144
اور بیمار ہو گئے۔یہاں میں اپنے چچا جان احمد حسن مرحوم کا اور چچی جان کا ضرور ذکر کروں گی ( اللہ تعالیٰ اُن دونوں کی مغفرت فرمائے ) کہ اُن مشکل ترین دنوں میں سامی صاحب کا بہت ساتھ دیا۔پہلے والا کام دلوانے میں اُن کا ہاتھ تھا اور سامی کی بیماری میں تیمار داری اور پھر نئی جگہ کام دلوایا۔چونکہ ابھی تک سامی میرے رشتہ داروں کے گھر میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔کام لگتے ہی میرے چچا اور چچی نے اُن کے لیے کام کے قریب رہائش کی تلاش کی۔خود جا کر تسلی کی کہ جن لوگوں کے گھر اور ساتھ رہنا ہے وہ کیسے لوگ ہیں۔(چونکہ یہاں پر ہر کوئی گھر نہیں خرید سکتا تھا خاص طور پر نئے آنے والوں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس لیے زیادہ تر لوگ ایک کمرہ کرایہ کا لیکر گھر والوں کے ساتھ ہی رہتے تھے ) خوش نصیبی سے اگر اچھے گھر والے مل جائیں تو زندگی اچھی گزر جاتی ہے ورنہ جہاں اور نقل مکانی کرنے والوں کو مشکلات ہوتیں ہیں یہ بھی بہت بڑی سردر دی ہوتی ہے۔الحمد للہ سامی صاحب کو بہت اچھی اور ہمدرد ایک پاکستانی فیملی مل گئی اور دن میں ہی شفٹ والا کام مل گیا۔اسطرح اب یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور آہستہ آہستہ مالی لحاظ سے بھی خود کفیل ہو گئے اور باقاعدہ ہر ماہ کا خرچہ مجھے اور اپنے ابا جی کو بھیج دیتے۔دوسال کے وقفہ کے بعد اب ہماری باری تھی لندن آنے کی۔سامی صاحب کے پاس کوئی لیگل پیپر نہیں تھے جو وہ مجھے بھیجتے۔ایمیگریشن کیلئے سامی صاحب خود مشکلات کا سامنا کر رہے تھے اُس زمانہ میں کوئی اسا علم نہیں ہوتی تھی۔جو بھی آتا ایر پورٹ پر اُس کو چھ ماہ کا ویزہ مل جاتا تھا۔اُس کے بعد چھپ چھپا کر کام شروع کر دیتا تھا اور اگر پکڑا جاتا تو ڈیپورٹ ہو جاتا یا کیس پاس ہو جا تا تو رہنے کی اجازت بھی مل جاتی۔سامی صاحب بھی اس مشکل کا سامنا کر رہے تھے مجھے کیسے بلاتے۔مجھے خطوط میں یہ ہی لکھتے کہ کوشش کرو کہ پاکستان میں کوئی تمہاری مدد کر دے۔سچ پوچھیں مجھے خود کوئی سمجھ نہیں تھی کہ میں کیا کروں آخر پھر ایک بار میں اپنے خالہ زاد بھائی چودھری سمیع اللہ صاحب کے پاس گئی۔یہاں میں ایک بات ضرور لکھنا چاہوں گی کہ جب سامی صاحب کی بھائی جان سمیع اللہ صاحب نے مدد کی اُس وقت بھی اور جب میں اُن کو ملنے گئی ہم دونوں بہن بھائی کی کچھ نہ کچھ ناراضگی چل رہی تھی مگر اُن کے (144)