میری پونجی

by Other Authors

Page 143 of 340

میری پونجی — Page 143

دھڑکتے دل کے ساتھ بھائی جان سمیع اللہ کے ساتھ جرمنی کے ائیر پورٹ پہنچ گیا۔بھائی جان کے ساتھ اُن کا ایک اور بزنس مین بھی تھا جو اُن کے سفر اور ملک سے باہر کے تمام امور کی دیکھ بھال کرتا تھا۔میری ذمہ داری بھی اُس کو سونپ دی اور مجھے بھائی جان ایک طرف لیکر بیٹھ گئے۔اُن دنوں ائیر پورٹ سے ہی ویزا لینا ہوتا تھا مگر بہت مشکل سے ملتا تھا۔مجھے بھی ویزے سے انکار ہو گیا مگر میں نہیں جانتا کن مشکلات سے اور کیسے میر اویز الگا پانچ چھ گھنٹے کی تگ ودو کے بعد مجھے چھ ماہ کا ویزا مل گیا اور اسطرح میں بہت جدوجہد کے بعد ایک مشفق اور مہر بان کی وجہ سے لندن کی سرزمین پر پہنچ گیا۔الحمد للہ۔لندن میں آمد لندن میں میرے ابا جان کو آئے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا اور وہ اپنے بھانجے اور اسکی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔اُن کے علاوہ بھی میرے کافی رشتے دار تھے سو میرے دل کو سکون آیا کہ کم از کم اب اپنوں میں تو ہیں۔اب بات جدائی کی تھی۔جدائی کا تو احساس اُس وقت ہی تھا جب یہ گھر سے چلے تھے۔سب کام سوچنے کی حد تک تو سب ٹھیک ہوتا ہے لیکن جب عملی طور پر کام شروع ہوتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ یہ ہم نے کیا کیا؟ سامی جب لندن پہنچ گئے تو ہمیں پاکستان میں یہ احساس ہو گیا کہ اب آپ تو لندن پہنچ گئے ہمیں کب بلائیں گے۔پاکستان میں بیٹھ کر یہ نہیں سوچتے کہ جو گیا ہے وہ کن مشکلات سے گزر کر گیا ہے اور اب وہ کس حال میں ہوگا ؟ فکر تھی تو یہ تھی کہ اب آپ ہمیں کب بلائیں گے؟ اور ادھر سامی صاحب کا یہ حال تھا کہ آتے ساتھ ہی کام کی تلاش پیسوں کی خود بھی ضرورت اور ہماری بھی فکر۔اس لیے جو بھی پہلا کام ملا شروع کر دیا اور پہلا کام انتہائی مشکل ترین ملا۔دسمبر کا مہینہ شدید سردی کی راتیں اور راتوں کو ہی بریڈ فیکٹری میں بریڈ کو لاریوں میں لوڈ کرنا۔بارش یا برف باری کچھ بھی ہو ہفتہ میں ساتوں راتیں یہ کام کرنا ہوتا اور سامی صاحب نے زندگی میں آفس جاب کے علاوہ کبھی کوئی کام نہیں کیا تھا اس لیے اس کام پر ایک ہفتہ سے زیادہ کام نہیں کر سکے (143)