میری پونجی

by Other Authors

Page 102 of 340

میری پونجی — Page 102

تھا کہ اماں جی اُس کی حاجت پوری نہ کریں، خود بھی کوئی بہت خوشحال نہیں تھیں مگر کسی کی مدد کے لیے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ خود کے پاس کچھ ہے کہ نہیں۔ایک مرتبہ کوئی چوڑیاں بیچنے والی اماں جی کی سہیلی کے بھائی کے بیٹا پیدا ہوا۔سردی شدید تھی۔اُس نے اماں جی سے مدد مانگی۔اماں جی نے اپنا کمبل کاٹ کر آدھا اُس کو دیا کہ بچے کو لپیٹ لو۔ساتھ دودھ کے پیسے اور ضرورت کی کئی چیزیں دیں۔ایک اور مستحق عورت کے ہاں بچی کی پیدائش پر اپنے ہاں سے نئے پرانے کپڑے کاٹ کر بچی کے فراک اور ضرورت کی چیزیں بنا کر دیں ساتھ ہی اُس کو کچھ عرصہ تک کھانا بھی گھر سے پکا کر بھجواتی رہیں۔ارد گرد تمام غیر احمدی پانی پت، کرنال کے اور جالندھر کے لوگ آباد تھے۔جہاں بہت عزت اور قدر کرنے والے لوگ تھے وہیں جہالت کی بھی انتہا تھی۔مخالفت چھپ کر کرتے تھے۔رات کو دروازے کے آگے کبھی کوئی تعویذ بھی کچھ پکا کر اور کبھی کچا گوشت رکھ جاتے۔مگر اماں جی صبح اُٹھ کر ان سب کے سامنے کھلی جگہ پر رکھتیں اور آگ لگا دیتیں۔جلسے کی آمد ہوتی تو بہت پہلے تیاری شروع ہو جاتی۔قادیان والا جوش اور جذبہ جاگ جا تا۔وہاں تو اپنے گھر تھے کھلی جگہ تھی مگر اب چنیوٹ سے ربوہ جانا ہوتا۔ہمیشہ اپنا ٹینٹ لگواتیں پوری فیملی کے ساتھ اور جو بھی رہنا چاہتا خوشی سے رکھتیں اور وہاں بھی مہمان داری کی خدمت احسن طریق سے نبھائیں۔مہمان نوازی کے عنوان سے مجھے ایک بات اُن کی کبھی نہیں بھولتی۔اباجی پہلے سے بتائے بغیر کسی مہمان کو لے آئے۔گھر میں کوئی چیز نہیں تھی ، جانے کہاں سے دودھ پتی کا انتظام کیا۔جلانے کے لیے جب کچھ نہ ملا تو جس پیڑھی پر بیٹھی تھیں اُس کو توڑا، آگ جلائی اور مہمان کو چائے پیش کر دی۔الحمد للہ! میں آج خود نانی اور دادی کے مقام تک پہنچ چکی ہوں میں اور میرے بچے بفضلِ خدا (102)