میری پونجی — Page 101
بزرگوں کی دعاؤں سے ہم فیضیاب ہورہے ہیں۔خلافت سے کتنی وابستگی تھی وہ آج بھی مجھے وہ دن یاد دلاتی ہے جس دن یہ نا گہانی خبر ہمارے گھر تک پہنچی پیارے حضور خلیفہ المسیح الثانی کے بارہ میں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آگئی ہے اور وہ اب اس دنیا میں ہمارے ساتھ نہیں رہے۔اُسی وقت ابا جی نے ساری فیملی کو جن میں سب بچے اور بڑے شامل تھے اپنے پاس بلایا اور یہ افسوس ناک خبر سنائی سب کو کہا ہاتھ اُٹھا ئیں اور دعا کروائی کہ یہ ہماری جماعت کے لیے بہت مشکل گھڑی ہے۔اللہ تعالیٰ اس گھڑی کو آسانیوں میں بدل دے۔دو تانگے کروائے اور ساری فیملی کو لے کر ربوہ آگئے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث" کے ہاتھ پر بیعت کی اور شکرانے کے نفل ادا کئے۔ہم سب بچوں کو خلافت کی اہمیت کے بارہ میں بتایا اور سمجھایا۔ابا جی اماں جی کی دعاؤں کا سلسلہ صرف ہم تک ہی محدود نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی کی ڈاک جو آتی تھی اس میں زیادہ تر لوگوں کے دعا کی درخواست پر مشتمل خطوط ہوتے۔اُن میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب اور ملک غلام فرید صاحب کے اسی طرح اور بزرگان کے خطوط ہوتے۔دونوں اماں جی اور اباجی ہمیشہ جمعہ ربوہ پڑھنے جاتے اور ہر جمعہ کے بعد اپنے چند ملنے والوں کے گھر ضرور جاتے۔خاص طور پر مولوی غلام نبی صاحب کے گھر ، صوفی ابراہیم صاحب کے گھر ، خالہ جی صوفیہ رحمانی صاحبہ کے گھر ، خالہ جی فاطمہ صاحبہ کی والدہ رقیہ رانجھا صاحبہ کے گھر۔غرض اسی طرح اور کئی نام لکھ سکتی ہوں جن سے وہ بہت پیار کرتے تھے اور وہ سب لوگ بھی اُن سے بہت پیار سے ملتے تھے۔پھر چنیوٹ میں اپنے محلہ میں بھی سب سے بہت تعلق تھا۔بچوں کو قرآن مجید پڑھانا اور اُن میں کوئی فرق نہیں تھا کہ احمدی بچے ہیں یا غیر احمدی۔کبھی کسی بچے سے ذاتی کام نہیں لیتی تھیں۔غریبوں کی مدد کرنا اور لوگوں کے کام آنا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔کوئی سوالی سوال کرے یہ ممکن نہیں (101)