معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 40 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 40

40 سال کے قریب نازل ہوئی ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں کفار مکہ کی طرف منظم مخالفت کا آغاز ہوا۔(صفحہ 506) یہی وہ پر ظلمت دور تھا جب چند گنتی کے مسلمان حبشہ میں تھے اور باقی جو مکہ معظمہ میں حضرت سمیت جو بھی چند مسلمان مرد، عورتین یا بچے موجود تھے، ان پر مظالم کے سیاہ اور گھٹا ٹوپ بادل چھائے ہوئے تھے اس لئے اللہ نے واقعہ اسراء و معراج کے زمانہ کو لیل یعنی رات ہی سے موسوم کیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے درج ذیل حقیقت افروز اشعار میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر شمع ظلمات ینہ وار آئی تاریکی یہ تاریکی اندھیرے پر اندھیرے ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی ہر سمت فساد اٹھا عصیان میں ڈوب گئے ایرانی و فارانی و فارانی ، رومی و بخارائی عشاق رسول کو معلوم ہے کہ خالق کا ئنات نے اپنے محبوب سے عمر بھر یہ غیر معمولی شفقت بھرا سلوک رکھا کہ نزول قرآن کے ساتھ ساتھ وہی غیر متلو ( کشف والہام اور رویا ) کا سلسلہ بھی ہمیشہ جاری رکھا تا قلب محمدی میں ثبات و استقلال اور بصیرت ایمانی کے انوار سے اور بھی معمور ہو جائے۔بالکل اسی دستور ازلی کے عین مطابق معراج کی طرف ارتقاء سے قبل قلب محمدی کو آب زمزم سے دھویا گیا اور پھر بخاری اور دیگر کتب احادیث کے مطابق اس میں حکمت و ایمان بھر دیا گیا جو سونے کے ایک تھال میں رکھا ہوا تھا۔اس انقلابی نکتہ معرفت سے معراج کے عدیم المثال سفر کا آغاز ہوا۔قلب و روح کے عجائبات بے شمار ہیں اس لئے میرا عقیدہ ہے کہ اس نورانی سفر کے معجز نما مشاہدات و واردات کوثر نبوی کی طرح بے شمار حکمتوں اور اسرار ورموز سے قیامت تک موجزن رہیں گے اور کسی