معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 41 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 41

41 کی مجال نہیں کہ ان کا احاطہ کر سکے۔وجہ یہ کہ معراج دکھلانے والے رب العرش نے خود واضح فرما دیا ہے فاوحى الى عبده ما اوحی“ (النجم: 11) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں اس مبارک آیت کا ترجمہ یہ ہے پس اس نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی کیا جو بھی وحی کیا۔“ حضرت علامہ سیوطی نے واقعات معراج پر مشتمل قدیم روایات میں یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت نے معراج میں سب نبیوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین اور سب انسانوں کے لئے بیرونذیر بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔مجھ پر قرآن نازل فرمایا ہے جس میں ہرشئی بیان ہوئی ہے۔میری امت سب اسم عالم سے افضل ہے اور اس میں اولین بھی ہیں اور آخرین بھی۔(در منثور جلد 4 صفحہ 145) شہنشاہ نبوت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آسمانی خطاب سفر معراج کے خارق عادت نکاروں کی کنہ تک پہنچنے کے لئے آسمانی کلید کا حکم رکھتا ہے اور بغور مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ معراج محمدیت ایک وسیع ترین کائنات ہے جس کے سامنے ہماری مادہ اور ظاہر کائنات اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی حیثیت ذرہ کو آفتاب سے ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس کی شمان آیات اللہ کی ہے اور وہ بھی ایسی وحی کے ساتھ جو رب محمد اور قلب محمد کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ذیل میں اس سفر نورانی کے لاتعداد پہلوؤں میں سے صرف چند گوشوں پر نهایت اختصار و اجمال کے ساتھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔تدریجی واقعات کے نظارے 1۔اس حیرت انگیز سفر میں ہمارے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی عالمی اشاعت کے ابتدائی مراحل سے متعلق باہم تدریجی واقعات مشاہدہ فرمائے اور ان کے سنگ میل۔ہجرت مدینہ کی خاص طور پر جھلک دکھلائی گئی چنانچہ مٹر ب میں نماز پڑھنے کا ذکر بھی روایات میں موجود ہے علاوہ ازیں کفار سے دفاعی جنگوں کا بھی قبل از وقت بتلا دیا گیا