معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 39 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 39

39 الغرض خدائے ذو العرش نے گھٹا ٹوپ بادلوں سے گھری ہوئی تاریک اور سیاہ رات میں اپنے محبوب مگر امی نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے لئے رسول بنایا اور تمام جہانوں کو رحمت عطا کرنے کا عالمگیر، ابدی اور آفاقی مشن سونپا۔وہ شہ لولاک جو غار حرا میں اپنے مولی کی پہلی تجی پر ہی ( جو فظ افسر" سے شروع ہوئی ) کانپ اٹھے تھے، اس عالمگیر ذمہ داری پر آپ کے مقدس قلب و دماغ اور روح پر کیا بیتی ہوگی ؟ کوئی ماں کا بیٹا قیامت تک اس کے کروڑویں حصہ کا بھی اندازہ نہیں کر سکتا۔رب العرش فرماتا ہے کہ انسان کامل یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو امانت بخشی گئی ، زمین و آسمان اور پہاڑ بھی اسے اٹھانے سے قاصر تھے۔(احزاب:73) وہ بوجھ جس کو اٹھا نہ سکے آسمان و زمین اسے اٹھانے کو آیا ہوں کیا عجیب ہوں میں عقل انسانی یہ معلوم کر کے ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ معراج کے یہ لطیف مشاہدات عین اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے جبکہ ساری دنیا سچ مچ رات کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی جیسا کہ ابتدائی کمکی سورت اللیل سے پتہ چلتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:- سر میور کا خیال ہے کہ سورت بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔پادری ویری لکھتے ہیں کہ یہ سورۃ ہے تو ابتدائی مگر تبلیغ عامہ کے زمانہ کی ہے یعنی تیسرے، چوتھے یا پانچویں سال کی ہے کیونکہ اس میں منکروں کے لئے عذاب کی خبر ہے۔پادری و ھیری کا یہ خیال میرے نزدیک درست معلوم ہوتا ہے۔“ (تفسیر کبیر سورة الليل صفحه 44) اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سورہ نجم جس میں واقعہ معراج کا ذکر ہے پانچویں سال نبوت میں نازل ہوئی۔حضرت مصلح موعودؓ نے سورہ الفجر کی تفسیر میں ریورنڈ ویری اور نولڈ کے کی آراء درج کی ہیں اور تحریر فرمایا ہے کہ یور چین اور مسلمان مورخ سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سورۃ ( الفجر ) چوتھے "