مذہب کے نام پر خون — Page 68
۶۸ مذہب کے نام پرخون نصیب ہوگی۔حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسی نے بھی اپنی ساری زندگی نصیحت میں صرف کر دی اور کبھی اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینے کی سکیمیں نہ بنائیں اور آخر میں سب نبیوں کا سردار بھی ناصح بن کر ہی لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے کے لئے آیا دارو نے یا خدائی فوجدار کی حیثیت کبھی اختیار نہ کی اللہ تعالیٰ نے بھی خود آپ کو ناصح ہی کا نام دیا اور فرمایا:۔فَذَكِّرْ ۖ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَاكِرَ - لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ (الغاشية: ۲۲، ۲۳) پس (اے محمد) نصیحت کر تو محض ایک واعظ ہے اور ان (لوگوں) پر داروغہ مقرر نہیں۔مگر مودودی صاحب اس دعویٰ پر مصر ہیں کہ وہ اور ان کی جماعت:۔مذہبی تبلیغ کرنے والے واعظین اور مبشرین کی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ خدائی فوجداروں کی جماعت ہے۔لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۔اور اس کا کام یہ ہے کہ دنیا سے ظلم، فتنہ و فساد، طغیان اور نا جائز انتفاع کو بزور مٹادے لے “ خدا تعالیٰ تو اپنے بزرگ ترین رسول کو بھی یہی نصیحت فرما تا رہا ہے کہ:۔وَمَا جَعَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ (الانعام: ۱۰۸) نہ تو ہم نے تجھے ان پر داروغہ مقرر کیا ہے اور نہ تو ان کے اعمال کا ذمہ دار ہے۔مگر مودودی صاحب داروغنگی ہی کے نہیں بلکہ فوجداری حقوق اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے محفوظ کروا رہے ہیں۔کس قدر تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس مصلح اعظم کو تو فوجداری حقوق نہ سونپے جس کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا تھا مگر مودودی صاحب اور ان کے صالحین کی جماعت کو اس عطائے خاص کے لئے چن لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پر شفقت و رحمت دل سے جب دردناک دعائیں اٹھتی تھیں کہ اے میرے آقا! مجھے توفیق بخش کہ میں سارے جہان کی ہدایت کا موجب بن جاؤں تو آپ کو تو خدا تعالیٰ یہی جواب دیتا رہا کہ :۔ا فَانْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (يونس:١٠٠) لے حقیقت جہاد صفحہ ۵۸