مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 67

۶۷ مذہب کے نام پرخون اے میری قوم! دیکھو میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور نصیحت کر چکا ہوں لیکن تم ناصحین سے محبت کرنے والے لوگ نہیں ہو۔پھر حضرت لوط کی جماعت نے بھی حضرت لوط کی قوم کا اقتدار جبر سے نہ چھینا بلکہ نصیحت کرتے چلے گئے یہاں تک کہ اس قوم کی عقوبت کا وقت آ پہنچا تب اس سے پیشتر کہ عذاب ظالموں کی اس بستی کو گھیر لیتا اللہ کے اذن سے حضرت لوط اور آپ کے ساتھی ہمیشہ کے لئے اس بستی کو چھوڑ کر چلے گئے تب وہ ہولناک صبح طلوع ہوئی جس سے ہمیشہ ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے۔فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ (الصافات: ۱۷۸) دیکھو ! کیسی بری صبح ہوتی ہے ان کی جن کو عذاب الہی سے ڈرایا جاتا ہے۔اور حضرت شعیب نے بھی دشمنوں کی ایذا رسانی کے باوجود نصیحت ہی سے کام لیا اور جب مخالف ظلموں سے باز نہ آئے فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَ قَالَ يُقَومِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ بِسُلْتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ أسى عَلَى قَوْمٍ كَفِرِينَ (الاعراف: ۹۴) تو وہ ان لوگوں سے الگ ہو گئے اور کہا کہ اے میری قوم! میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا ہوں اور نصیحت کر چکا پس کس طرح ایک کا فرقوم پر ( جو مسلسل انکار پر مصر ہے ) اپنے غم کا اظہار کروں۔غرضیکہ تمام انبیاء کا مقام ناصحین کا مقام تھا اور جب ان کا انکار کیا جاتا تھا تو وہ اپنے ربّ کے حضور جھکتے اور گریہ وزاری کرتے تھے اور بزور شمشیر مخالفین سے عنان حکومت چھینے کی بجائے وہ یقین رکھتے تھے کہ ان کا فرض صرف محبت اور نرمی اور عجز اور نصیحت کے ساتھ اصلاح کرنا ہے اور باقی خدا کا کام ہے۔وہ مالک حقیقی ہے اور جسے چاہتا ہے حکومتوں کا وارث بنادیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کا نعرہ بھی یہی تھا کہ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف: ۱۲۷) اور اپنی قوم کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ استَعِينُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا (الاعراف: ۱۲۹) اللہ تعالیٰ سے مدد چاہو اور صبر کرو اِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف: ۱۲۹) یقیناً ساری زمین خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث کر دیتا ہے ( یہ ہمارا کام نہیں کہ اپنے زعم میں اپنے آپ کو صالحین کہہ کر بزور شمشیر اقتدار حاصل کریں ) ہاں ہم اتنا ضرور جانتے ہیں وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ کہ انجام کار فتح بہر حال متقیوں کو