مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 66

۶۶ مذہب کے نام پرخون ”اے میری قوم میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ ربّ العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں اور ( میرا کام یہ ہے کہ) تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں اور اپنے رب کی طرف سے مجھے ان امور کا علم دیا گیا ہے جنہیں تم نہیں جانتے۔“ یہ ہے وہ خطاب جو اللہ تعالیٰ کے بیان کے مطابق حضرت نوح نے اپنی قوم سے کیا مگر مودودی نظریہ کے مطابق ان کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ” میں تو خدا کا رسول ہوں اور بزور شمشیر اپنے صالحین کی جماعت تم پر مسلط کر دوں گا اور خواہ تم ہاتھ اٹھاؤ یا نہ اٹھاؤ وہ بہر حال تمہارے غیر صالح ہاتھوں سے اقتدار چھین لیں گے۔“ پھر دیکھئے حضرت ہوڈ پر جب عاد قوم نے بے وقوف ہونے کا الزام لگایا تو جوابا آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میری نصیحت کے بے ضرر طریق کو دیکھ کر مجھے بیوقوف نہ سمجھتے رہنا یہ تو ایک عارضی روپ ہے ورنہ دراصل میں تو ایک جابر اور متشد د انسان ہوں اور ایک دن خدا کے باغیوں سے عنان حکومت چھین کر اپنی صالح جماعت کے سپرد کر دوں گا بلکہ سنت انبیاء کے مطابق آپ کا جواب بھی نہایت ہی پاکیزہ تھا اور اس میں سنگدلی اور جبر و تشدد کے ارادوں کا شائبہ تک نہ تھا۔قرآن کریم وہ جواب ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ :۔يُقَومِ لَيْسَ فِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّى رَسُولُ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ - أَبَلِّغُكُم بِسُلْتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحُ آمِينَ (الاعراف: ۲۹،۶۸) اے میری قوم! مجھ میں بیوقوفی کی تو کوئی بات نہیں میں تو تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں۔اپنے رب کے پیغام تم تک پہنچاتا ہوں اور تمہارے لئے ایک ناصح کی حیثیت رکھتا ہوں اور امین ہوں۔پھر حضرت ہوڈ کے بعد حضرت صالح کو بھی قوم نے ٹھکرادیا اور طرح طرح کے الزام لگائے مگر آپ کا جواب بھی یہی تھا کہ :۔يُقَومِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّصِحِينَ - (الاعراف: ۸۰)