مذہب کے نام پر خون — Page 44
مذہب کے نام پرخون بغاوت کی ؟ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے۔دراصل اس دور کے اکثر مسلمانوں کو جو بدوی قبائل۔تعلق رکھتے تھے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تربیت پانے کا کوئی موقع نہ مل سکا تھا بلکہ اکثر بدقسمت ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نورانی چہرہ کو ایک نظر دیکھا بھی نہ تھا۔اس زمانہ میں سفر ایسے پر مشقت ہوا کرتے تھے کہ یہ ممکن نہیں تھا کہ دور دور کے قبائل کے تمام افراد فرداً فرداً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اس لئے عرب کے طریق کے مطابق مختلف قبائل یا تو کوئی تبلیغی وفدا اپنے ہاں بلوا لیتے تھے یا اپنے وفود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوا دیا کرتے تھے جو کافی بحث مباحثہ کے بعد کسی نتیجہ تک پہنچتے تھے اور پھر وفد کا جو بھی فیصلہ ہوتا تھا قوم اس کے پیچھے چلتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ان میں سے بہت سے ایسے نو مسلم تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تربیت تو در کنار صحابہ کبار سے بھی تربیت حاصل نہ کر سکے تھے۔اس پر مزید ابتلاء یہ آن پڑا کہ وہ سب ہادیوں کا راہنما اور ہدایتوں کا سورج ان بدقسمتوں کے قبول اسلام کے تھوڑی ہی دیر بعد غروب ہو گیا اور ایک نسبتی اعتبار سے افق عرب پر اندھیرا چھا گیا۔تاریخ کے ان اوراق میں ہمارے لئے ایک گہرا سبق ہے کہ جب قومیں اپنے وقت کے نبی کا انکار کرتی ہیں اور بزور اس نور کو بجھانے کی کوشش کرتی ہیں تو اس دنیا میں ایک سخت دردناک سزا ان کو سیلتی ہے کہ ان کی اکثریت کو اس وقت ایمان نصیب ہوتا ہے جب وہ نبی ان سے جدا ہونے کو ہوتا ہے یا پھر اس سے بھی دیر میں اس نبی کے جدائی کے بہت بعد۔پس کیا ہی بدنصیب ہیں وہ عشاق جو وصل کے دور میں تو ایک قابل صد محبت وجود سے نفرت کر رہے ہوں مگر جب فراق کی گھڑی آ پہنچے یا ہجر کی راتیں مسلط ہو جائیں تو ان کے قلوب میں شعلہ عشق بھڑک اٹھے۔آئیے ! اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعوی نبوت سے لے کر آپ کے وصال تک کی تاریخ اسلام تک ایک متجسسانہ نظر ڈال کر دیکھیں کہ کسی دور میں شائد کسی اور طریق سے جبری طور پر مسلمان بنانے کا کوئی ثبوت ملتا ہو مثلاً ہوسکتا ہے کہ فتوحات کے معا بعد خوف زدہ مخالفین کو بشدت اسلام قبول کرنے کی تلقین کی گئی ہو یا ان کی جان بخشی یا آزادی کے لئے مسلمان ہونا بطور شرط