مذہب کے نام پر خون — Page 45
کے رکھ دیا گیا ہو۔مذہب کے نام پرخون حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو فتح مکہ تک تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔اوّل وہ انتہائی مظلومی کا دور جو دعویٰ نبوت سے لے کر ہجرت تک ممتد ہے اور جسے عرف عام میں مکی دور کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ مدنی دور جو سنہ ہجرت سے لے کر صلح حدیبیہ تک پھیلا ہوا ہے ، یہ دور بھی دراصل ایک سخت مظلومی ہی کا دور ہے کیونکہ اگر چہ مسلمانوں کو دفاع کی اجازت دے دی گئی تھی مگر وہ اپنے دشمن کے مقابل پر کیا بلحاظ تعداد اور کیا بلحاظ جنگی ساز و سامان کوئی بھی حیثیت نہ رکھتے تھے۔خطہ عرب میں صرف مدینہ ہی ایک ایسی بستی تھی جہاں مسلمان جمعیت آباد تھی اور اس ایک بستی پر بھی ان کا مکمل قبضہ نہ تھا بلکہ یہود کے تین متمول قبائل اس کے ایک بڑے حصہ پر قابض تھے اور اوس وخزرج کے تمام افراد بھی حلقہ بگوش اسلام نہ ہوئے تھے۔ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے ایک مضبوط پہلوان کے مقابل پر ایک کمزور بچہ کو اپنے دفاع کی اجازت دے دی جائے۔وہ پہلوان تو زرہ بکتر میں ملبوس ہو ، اس کے ہاتھ میں نیزہ ہو اور تلوار زیب کمر ہو اور ایک قد آور جنگی گھوڑے پر سوار ہومگر وہ بچہ ننگے پاؤں ، نیم عریاں ، ایک ٹوٹی ہوئی تلوار لے کر اس کے مقابل پر نکلے۔سارے عرب کی قوت تو مدینہ میں بسنے والے ان چند مسلمانوں کے مقابل پر بہت ہی زیادہ تھی۔صرف جنگ بدر ہی میں حملہ آور دشمنوں اور مسلمانوں کی دفاعی فوج کا موازنہ کیا جائے تو وہ کچھ اسی قسم کا موازنہ ہو گا۔پس اس دور کو بھی میں سخت مظلومی کا دور ہی کہوں گا۔مانا کہ دفاع کی اجازت مل چکی تھی۔تیسرا دور وہ دور ہے جو صلح حدیبیہ سے شروع ہو کر فتح مکہ تک پھیلا ہوا ہے۔یہ صلح اور امن کا دور تھا جس میں کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا تاہم یہود اور بعض دیگر قبائل کی عہد شکنیوں کے نتیجہ میں بعض غزوات وسرا یا وقوع پذیر ہوئے۔مگی دور دور اول سے متعلق جو تیرہ سال کی انتہائی مظلومی کا عرصہ ہے اسلام کے اشد ترین معاندین بھی یہ دعوی نہیں کرتے کہ اس دور میں اسلام کی طرف سے کسی بھی غرض کے لئے تلوار اٹھائی گئی ہو۔ہاں یہ ضرور تھا کہ دشمنان اسلام کی تلواروں کے خوف کے باوجود بہت سے متلاشیان حق اسلام میں