مذہب کے نام پر خون — Page 43
۴۳ مذہب کے نام پرخون ہتھیار ڈال دے اسلام کی اشاعت کی رفتار تیز تر ہو جائے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعینہ ایسا ہی ہوا اور اسلام کے آخری غلبہ سے پہلے بھی صلح کے دور میں اشاعت اسلام کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہوگئی۔اگر کوئی شخص شبہ پر تل ہی بیٹھے تو فتح مکہ کا دن وہ پہلا دن ہے جس کے بعد یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ تلوار کے ذریعہ حاصل شدہ غلبہ کے نتیجہ میں اسلام قبول کرنے کی طرف لوگوں کا میلان ہوا مگر صلح حدیبیہ کے دور پر تو یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ صلح خود ظاہر نظر میں ایک کمزوری کی دلیل تھی اور دشمن اسے اپنی فتح کا نام دیتا تھا۔اب دیکھئے کہ دعوی نبوت سے لے کر صلح حدیبیہ تک جو مصیبتوں اور بدامنی کا دور تھا تقریباً انیس سال کے عرصہ میں جس قدر لوگوں نے اسلام قبول کیا اس سے کہیں زیادہ تعداد میں صلح حدیبیہ کے دوسالہ دور میں لوگ مسلمان ہوئے۔یہ موازنہ حیرت انگیز ہے مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ ایسا ہی ہوا۔زیادہ سے زیادہ مسلمان مردوں کی تعداد جو صلح حدیبیہ سے پہلے کسی جنگ میں شریک ہوئی ہے وہ تقریباً تین ہزار افراد بنتی ہے۔یہ بڑے سے بڑے تخمینہ کے مطابق اسلامی فوج کے ان سپاہیوں کی تعداد ہے جنہوں نے جنگ احزاب میں حصہ لیا۔اس کے مقابل پر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان لشکر کی تعداد دس ہزار قدوسیوں پر مشتمل تھی۔ان مزید سات ہزار میں سے بہت ہی کم تھے جو جنگ احزاب اور صلح حدیبیہ کے درمیان مسلمان ہوئے اور یقیناً بھاری اکثریت نے صلح حدیبیہ کے دوسالہ امن کے دور میں ہی اسلام قبول کیا۔چنانچہ حضرت عمرو بن العاص اور حضرت خالد بن ولید سیف اللہ بھی اسی دور کے مسلمانوں میں سے ہیں۔یہ موازنہ صاف ثابت کرتا ہے کہ جارحانہ جنگوں کا تو کیا سوال خود یہ دفاعی جنگیں بھی اشاعت اسلام کے لئے سخت مضر ثابت ہو رہی تھیں۔کجا یہ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس غرض سے کسی قسم کے جنگ و جدال کا خیال بھی دل میں لاتے۔اس کے علاوہ اس موازنہ سے یہ امر بھی صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جب فتح مکہ اور پھر جنگ حنین کے بعد امن کا دور آیا تو اہل عرب کا جوق در جوق مسلمان ہونا کسی غلبہ کے اثر سے نہ تھا بلکہ صلح حدیبیہ کے دور کی طرح مسلمانوں کی پر امن تبلیغ کے نتیجہ میں تھا۔اب رہا یہ سوال کہ ان بعد کے مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کی حکومت کے خلاف کیوں