مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 42

۴۲ مذہب کے نام پرخون لوگ فرضی مظالم مسلمانوں کی طرف منسوب کر کے سخت اشتعال انگیز نظموں کے ذریعہ عرب میں آتش غیظ و غضب بھڑکا رہے تھے۔چنانچہ کعب بن اشرف سے متعلق روایت آتی ہے کہ یہ بد بخت جنگ بدر کے بعد خاص طور پر اس غرض کے لئے مکہ پہنچا تھا کہ اپنی نظموں کے ذریعہ قریش کی آتش انتقام کو بھڑکائے۔اسی طرح یہی کعب بن اشرف دوسرے قبائل عرب میں بھی مسلمانوں کے خلاف زہر یلامواد پھیلا تا رہا۔اس کے علاوہ قریش کی طرف سے بھی مسلسل مسلمانوں کو بد نام کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی رہی اور انہیں نعوذ باللہ ایک خونی لٹیروں کے گروہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔(۲) حملہ آوروں میں سے جو مقاتل بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جاتے تھے ان کے پسماندگان عرب دستور کے مطابق انتقام کی قسمیں کھاتے تھے اور سارا کنبہ یا قبیلہ ان موتوں کا اسلام ہی کو ذمہ دار ٹھہراتا تھا اور ناحق یہ دین مظلوم ان کی نفرت کا نشانہ بن جاتا تھا۔(۳) ان مخالفانہ حالات میں عرب کی اکثر آبادی تک اسلام کا پیغام پہنچانا اور دلوں سے غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک امر محال بن گیا تھا جس کے نتیجہ میں لازماً تبلیغ ایک بہت ہی تنگ دائرے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔(۴) جن لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچ سکا تھا اور وہ اس کی سچائی کے قائل بھی ہو چکے تھے ان میں سے بھی ایک کمزور دل طبقہ محض اس مخالفانہ ماحول سے ڈر کر اس کے اظہار سے رکا ہوا تھا اور ان لڑائیوں کی ایک دہشت دلوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔(۵) انفرادی طور پر دشمنی کا ڈر نہ ہونے کی صورت میں بھی اسلام میں شمولیت ایک خاص جرات اور مردانگی چاہتی تھی کیونکہ اس شمولیت کا مطلب مسلمانوں کی دفاعی جنگوں میں ان کے ساتھ شریک ہونے کے مترادف تھا اور مسلمانوں کی کمزوری کے پیش نظر دوسرے الفاظ میں اس کا یہ مطلب تھا کہ کوئی جان بوجھ کر آنکھوں سے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں قدم رکھ دے۔(۶) خود حفاظتی کے اقدامات کے سلسلہ میں مسلمانوں کا اتنا وقت صرف ہو جاتا تھا کہ انہیں تبلیغی مشاغل کے لئے بہت کم فرصت ملتی تھی۔اگر میرا مندرجہ بالا دعویٰ درست ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ جو نہی جنگ اپنے