مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 41

۴۱ مذہب کے نام پرخون دوڑے۔مولانا! آئیے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے کہ اگر یہی وہ لوگ تھے جن کے سر تلوار نے خم کئے تھے اور جن کے دلوں کو زنگ سے خوب صاف کر کے اسلام کا نور قبول کرنے کے لئے تیار کیا تھا تو یہ زنگ تو دوڑا چلا آتا ہے اور دلوں کو پھر ہر سمت سے اپنی طرف لپیٹ میں لے رہا ہے اور دیکھئے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اس مشکل وقت میں اسلام کے لئے دشمن کے تیروں کے سامنے اپنے سینے سپر کئے۔کیا وہی ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی نہیں تھے جن کے دلوں سے جاہلیت کے زنگ کو کسی تلوار نے نہیں چھڑا یا تھا ؟ میں نے مندرجہ بالا استدلال محض اس مفروضہ کو کچھ دیر تسلیم کرتے ہوئے پیش کیا ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں اسلام محض اپنی صداقتوں کے زور سے نہیں بلکہ تلوار کی مدد سے داخل ہوا تھا۔تلوار نے پہلے ہل چلایا پھر اسلام نے بیج بو دیا لے تب کہیں جا کر اسلام کی فصل پیدا ہوئی۔پس میں مولانا کو اس فصل کا پھل دکھا رہا تھا جو مبینہ طور پر تلوار کے ہل کی پیداوار تھی۔اب میں قارئین کے سامنے وہ حقائق پیش کرتا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل عرب کے قبول اسلام میں نہ پہلے ، نہ درمیان میں ، نہ بعد میں کبھی بھی تلوار کو دخل نہیں ہوا۔سب سے پہلے میں اسی گروہ کو لیتا ہوں جو سب سے بعد میں مسلمان ہوئے اور جن سے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے براہ راست تلوار کے خوف سے یا بالواسطہ اس کے اثر سے اسلام قبول کیا لیکن تاریخی حقائق پیش کرنے سے پہلے اس ضمن میں چند ایک تعارفی کلمات گوش گزار کر نے ضروری سمجھتا ہوں۔تاریخ اسلام کے غیر متعصب آزاد مطالعہ کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام کے پھیلانے میں تلوار کبھی بھی رسول اللہ لی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مددگار نہیں ہوئی بلکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔مسلمانوں کی دفاعی جنگیں جو سخت مجبوری کے عالم میں انسانی جان کی حفاظت کی غرض سے لڑی جارہی تھیں اسلام کے بسرعت پھیلنے کے راستہ میں در حقیقت روک بن رہی تھیں اور یہ رکاوٹ کئی طریق پر پیدا ہوتی تھی۔مثلاً:۔(1) ان لڑائیوں کو اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک ذریعہ بنالیا گیا تھا اور شریر النفس لے مولانا مودودی اس طریق اشاعت کو اپنی کتاب الجہاد فی الاسلام کے صفحہ ۱۳۸ ،۱۳۹ پر پیش فرماتے ہیں۔