مذہب کے نام پر خون — Page 29
۲۹ وو مذہب کے نام پرخون آہ نکل جاتی ہے کہ کاش مولانا مودودی اپنے آقا کے بارہ میں اتنے ہی انصاف سے کام لیتے جتنا کرشن کے ایک غلام نے لیا ہے۔ایک نہیں بلکہ بیسیوں حضرت کرشن کے غلاموں نے جب تاریخ اسلام پر غور کیا تو ہمارے آقا کی بے پناہ قوت حسن و احسان کو محسوس کیا اور یہ کہے بغیر ان سے بن نہ پڑی کہ :۔”لوگ کہتے ہیں کہ اسلام شمشیر کے زور سے پھیلا مگر ہم ان کی اس رائے سے موافقت کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ زبردستی سے جو چیز پھیلائی جاتی ہے وہ جلدی ظالم سے واپس لے لی جاتی ہے ( تعجب ہے کہ مولانا کی نظر مزاج شناس نبوت“ انسانی فطرت کے اس ظاہر و باہر نکتہ کو نہیں پاسکی۔ناقل ) اگر اسلام کی اشاعت ظلم کے ذریعے ہوئی ہوتی تو آج اسلام کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا۔لیکن نہیں۔ایسا نہیں ہے بلکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام دن بدن ترقی پر ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ بانی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) کے اندر روحانی شکتی تھی۔منش ماتر ( بنی نوع انسان ) کے لئے پریم تھا۔اس کے اندر محبت اور رحم کا پاک جذبہ کام کر رہا تھا۔نیک خیالات اس کی راہنمائی کرتے تھے ، مگر مولانا صاحب پھر بھی مصر ہیں کہ اسلام کی فیصلہ کن طاقت کا راز آپ کے روحانی اعجاز میں نہیں بلکہ تلوار میں مضمر تھا۔حیف ! صد حیف!! کہ آپ کی مقدس زندگی کا وہ معجزہ جو ایک غالی آریہ کی نظر سے بھی اوجھل نہ رہ سکا مولانا کی ” پر بصیرت آنکھ اسے دیکھنے سے محروم رہ گئی۔” آریہ مسافر کی اسلام دشمنی سے کون واقف نہیں ہے۔یہ آریہ مذہب کا وہ ترجمان ہے جو ہمیشہ اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ رہا مگر جب اس کے ایک مقالہ نویس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی وجوہ پر غور کیا تو تلوار کی قوت کے الزام کو ایک فرسودہ اور بے بنیادا تہام کے طور پر ٹھکرا دیا اور آپ کے غلبہ کی وجہ محض یہ قرار دینے پر مجبور ہو گیا کہ آپ کی زندگی ایک مجسم معجزہ تھی چنانچہ وہ لکھتا ہے اور انسانی فطرت کی کیسی سچی اور پاک گواہی ہے کہ:۔لے از قلم ایڈیٹرست آپریشن لاہور مورخہ ۷ / جولائی ۱۹۱۵ ء ماخوذ از برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول صفحہ ۱۲، ۱۳