مذہب کے نام پر خون — Page 28
۲۸ مذہب کے نام پرخون اکثر متعصب مخالفین اسلام خصوصا گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے اور ملک میں آتش فتنہ و فساد کے بھڑ کانے والے کہا کرتے ہیں کہ حضرت محمد صاحب مدینہ جا کر طاقت وقوت حاصل کر کے اپنی اس بناوٹی تعلیم رحم و مروت کو باقی نہ رکھ سکے بلکہ اپنے زندگی کے اہم مقصود ( طلب دنیا، حکومت و مرتبہ، مال و دولت وغیرہ) کے حصول کے لئے بڑے زور کے ساتھ تلوار و قوت کا استعمال کیا بلکہ ایک خونی پیغمبر بن کر دنیا میں تباہی و بربادی مچائی اور اپنے اس بناوٹی صبر وضبط کے معیار سے گر گئے لیکن یہ ان کو تاہ بین مخالفوں کی (جن کو خواہ مخواہ کا بغض اسلام اور مسلمانوں سے ہے) تنگ نظری اور پکپاشت رو پی اگیان کا پردہ جوان کی نگاہوں پر پڑا ہوا ہے اور بجائے نور کے نار حسن کے فتح۔اچھائی کے برائی ہی تلاش کرتے رہتے ہیں اور ہر ایک خوبی کے اعلیٰ مرتبہ تعلیم کو ایسی بری شکل وصورت میں پیش کرتے ہیں جن سے ان کی بد باطنی اور سیاہ قلبی کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔“ یہ اقتباس ایک غیر مسلم مقرر جناب پنڈت گیا نیندر صاحب دیو شر ماشاستری کی ایک تقریر سے لیا گیا ہے جو انہوں نے ۱۹۲۸ء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر گورکھ پور میں فرمائی تھی۔کچھ آگے چل کر یہی پنڈت صاحب اسلام کی فیصلہ کن طاقت کے بارہ میں اپنی تحقیق کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں :۔مخالفین اندھے ہیں۔ان کو نظر نہیں آتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) کی تلوار رقم ومروت تھی۔دوستی اور درگزر تھی جو مخالفین پر پورے طور پر کارگر ہوتی اور ان کے قلب کو پاک وصاف کر کے مثل آئینہ بنا دیتی جس کی کاٹ اس مادی تلوار سے بڑی زبر دست اور تیز ہوتی ہے ،، اس اقتباس کے بعد کسی رائے زنی یا موازنہ کی ضرورت نہیں رہتی مگر دل سے بے اختیار یہ لے دنیا کا ہادی اعظم غیروں کی نظر میں صفحہ ۵۷ ے دنیا کا ہادی اعظم غیروں کی نظر میں صفحہ ۶۱