مذہب کے نام پر خون — Page 27
۲۷ مذہب کے نام پرخون افکار و نظریات کو دنیا میں پھیلائے گی اور تمام ممالک کے باشندوں کو دعوت دے گی کہ اس مسلک کو قبول کریں جس میں ان کے لئے حقیقی فلاح مضمر ہے۔دوسری طرف اگر اس میں طاقت ہوگی وہ لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹا دے گی اور ان کی ا لڑکرتی جگہ اسلامی حکومت قائم کرے گی۔“ اس عبارت کو جناب مولانا صاحب کی پہلی عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے بے اختیار گاندھی جی کی یہ رائے ذہن میں ابھر آتی ہے کہ:۔”اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا ہے کہ اس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور 66 آج بھی تلوار ہے۔“ اور آنحضرت کی اس مصنوعی خیالی تصویر کی طرف دھیان منتقل ہو جاتا ہے جو واشنگٹن ارونگ نے اپنی مصنفہ سیرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پہلے ہی صفحہ پر چسپاں کی ہے اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہاتھ میں تلوار لئے اور ایک ہاتھ میں قرآن لئے ہوئے دکھایا گیا ہے اور معادل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ مولانا کے نزدیک بھی اسلام اور اس کے مقدس رسول کا تصور واشنگٹن اور نگ کے تصور سے کچھ مختلف نہیں ہے۔پس ایک طرف تو یہ مسلمان عالم ہے کہ دنیا کے معصوم ترین نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اشد ترین مخالفین کا ہمنوا ہو کر ظلم اور تعدی اور جبر اور بغاوت کے الزام لگا رہا ہے اور دوسری طرف ہمیں بے شمار ایسے انصاف پسند غیر مسلم مفکرین کا گروہ نظر آتا ہے جو باوجود شدید اختلاف کے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہرگز تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ اپنے ظاہری و باطنی حسن اور عظیم اخلاق قوت کے زور سے دلوں پر فتح یاب ہوا۔چنانچہ مولانا اور معاندین اسلام کے محررہ بالا اقتباسات کے بعد بے محل نہ ہوگا کہ ہم بعض انصاف پسند غیر مسلموں کی رائے بھی پیش کر دیں۔یہ سب کے سب اسلام کے حامی و مداح نہیں ہیں بلکہ بعض ایسے بھی ہیں کہ خفیف سے خفیف موقع سے فائدہ اٹھا کر بھی اسلام پر حملہ کرنے سے نہیں چوکے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دفاعی جنگوں پر گہری تنقیدی نظر ڈالنے کے بعد انہیں بے اختیار یہ تسلیم کرنا پڑا کہ:۔