مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 26

۲۶ مذہب کے نام پرخون مجھ کو نہ صرف بغرض مدافعت جنگ کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ اپنا دین بزور شمشیر پھیلانے کی بھی اجازت دی ہے۔۔۔“ اور ڈاکٹر اے سپر نگر کے یہ الفاظ پڑھیئے جو مولانا مودودی کی ہم خیالی میں اس رائے کا اظہار کرتے ہیں:۔”اب پیغمبر (صلعم) نے فتنہ کے دفع کرنے کے لئے اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کا قانون خدا کے نام سے شائع کیا اور اس وقت سے یہ قاعدہ آپ کے (نعوذ باللہ ) خونی مذہب کا نعرہ جنگ ہو گیا۔“ وہ دشمنان اسلام جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین معاندین میں شمار ہوتے ہیں۔بغض وعناد سے جن کے سینے کھولتے ہیں جو نفرت کی آگ میں جلتے ہیں اگر وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جبر کا الزام لگا ئیں تو تعجب نہیں۔غم تو بہت ہوتا ہے مگر تعجب نہیں۔ہاں تعجب ان پر ہے اور حیف ہے ان پر جو اس معصوم اور مظلوم رسول کی پیروی کا دم بھر کر بھی آپ کی مقدس ذات پر بربریت کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔مولانا مودودی کے نزدیک نہ کبھی پہلے اسلام میں یہ طاقت تھی کہ محض اپنے حسن و جمال سے تلوار کی مدد کے بغیر دلوں کو فتح کر سکے اور نہ آج یہ طاقت ہے۔چنانچہ اپنے رسال حقیقت الجہاد میں رقم طراز ہیں:۔کوئی ایک مملکت بھی اپنے اصول و مسلک کے مطابق پوری طرح عمل نہیں کر سکتی جب تک کہ ہمسایہ ملک میں بھی وہی اصول و مسلک نہ رائج ہو جائے۔لہذا مسلم پارٹی کے لئے اصلاح عمومی اور تحفظ خودی دونوں کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ کسی ایک خطہ میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنے پر اکتفاء نہ کرے بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں اس نظام کو تمام اطراف میں وسیع کرنے کی کوشش کرے۔وہ ایک طرف اپنے ے اہل عرب کی سپین کی تاریخ از هنری کو پی جلد اول صفحہ ۳۹ مطبوعہ بوسٹن۔ماخوذ از مقدمہ تحقیق الجہاد صفحہ ۳۱ ماخوذ از مقدمه تحقیق الجهاد حواله تاریخ محمدی صفحه ۲۰۷ مطبوعہ الہ آبا دا ۱۸۵ء