مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 25

مذہب کے نام پرخون ظاہر ہونے والے محیر العقول معجزے بھی خائب و خاسر رہے اور ایک ادنی سی پاک تبدیلی بھی پیدا نہ کر سکے لیکن ” جب داعی اسلام نے تلوار ہاتھ میں لی۔۔۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ تصور اور کیسے تحقیر آمیز الفاظ ہیں کہ جن کو پڑھ کر رونا آتا ہے کہ یہ ایک اسلامی را ہنما کے قلم سے نکلے ہیں جو رسول کی محبت کا دعویدار ہے۔مولانا کے ان الفاظ کو پڑھیے اور میزان الحق کے کینہ تو ز مصنف پادری فنڈر کے ان الفاظ کا مطالعہ کیجئے :۔اب حضرت محمد تیرہ سال تک نرمی و مہربانی کے وسائل سے اپنے دین کی اشاعت میں کوشش کر چکے تھے۔لہذا اب سے آنحضرت” النَّبِيُّ بِالسَّيْفِ کہلائے یعنی نبی تیغ زن بن گئے اور اس وقت سے اسلام کی مضبوط ترین و کارگر دلیل تلواری قرار پائی لے اگر ہم حضرت محمدؐ اور ان کے تابعین کے چال چلن پر غور کریں تو ایسا معلوم ہوگا کہ اب وہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ عقبہ کے موضوع و مقبول اخلاقی قواعد کی پابندی ان کے لئے ضروری نہ تھی۔اب خدا ان سے فقط یہی ایک بات طلب کرتا تھا کہ اللہ کی راہ میں لڑیں اور تیغ و تیر اور خنجر و شمشیر سے قتل پر قتل کرتے رہیں ہے۔“ اور اس کے بعد یہ مصنف مسیح کی مظلومی کا بڑے فخر سے نعوذ باللہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزعومہ جبر کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔آپ کو خداوند یسوع مسیح کلمۃ اللہ اور حضرت محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم۔راقم ) میں سے ایک کو پسند کرتا ہے۔یا تو اس کو پسند کرنا ہے جو نیکی کرتا پھرا یا اس کو جو النَّبِی بِالسَّيْفِ “ کہلاتا ہے۔۔پڑھیے:۔پھر مولانا مودودی کی تائید میں ایک اور اسلام دشمن مسٹر ہنری کو پی کے مندرجہ ذیل الفاظ وو اور اپنی نبوت کے تیرہویں سال آپ نے اس امر کا اظہار کیا کہ خدا نے ا (میزان الحق صفحه ۴۶۸) ۲ (میزان الحق صفحه ۴۹۹) سے (تنمه میزان الحق)