مذہب کے نام پر خون — Page 24
۲۴ مذہب کے نام پرخون بھی تلوار ہے۔“ اور ڈوزی کہتا ہے کہ :۔"محمد" کے جرنیل ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر تلقین کرتے تھے۔“ اور سمتھ کا دعویٰ ہے کہ جرنیلوں کا کیا سوال خود ' آپ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر مختلف اقوام کے پاس جاتے ہیں۔اور جارج سیل یہ فیصلہ دیتا ہے کہ :۔” جب آپ کی جمعیت بڑھ گئی تو آپ نے دعوی کیا کہ مجھے ان پر حملہ کرنے اور بزور شمشیر بت پرستی مٹا کر دین حق قائم کرنے کی اجازت منجانب اللہ مل گئی ہے“ ان سب دشمنان اسلام کی آوازوں کو سنئیے اور پھر مولا نامودودی کی مندرجہ بالا عبارت کا مطالعہ کیجئے۔کیا یہ بعینہ وہی الزام نہیں جو اس سے پہلے بیسیوں دشمنان اسلام نے رسول معصوم کی ذات پر لگایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک اور اس سے بھی زیادہ آپ کی قوت قدسیہ پر حملہ کرنے والا۔آپ دشمنان اسلام کی عبارتیں پڑھ کر دیکھ لیجئے کہیں بھی آپ کو آنحضرت کی قوت قدسیہ کی مزعومہ کمزوری اور معجزات کی ناطاقتی کا ایسا ہولناک نقشہ نظر نہیں آئے گا جیسا مولانا مودودی نے کھینچا ہے یعنی آپ کی مسلسل تیرہ سال کی دعوت اسلام تو دلوں کو فتح کرنے سے قاصر رہی مگر تلوار اور جبروت نے دلوں کو فتح کر لیا۔وعظ و تلقین کے مؤثر سے مؤثر انداز تو صحرائی ہواؤں کی نظر ہو گئے مگر نیزوں کی آنی نے دلوں کی گہرائیوں تک اسلام پہنچا دیا۔آپ کے مضبوط دلائل تو عقل انسانی میں جاگزیں نہ ہو سکے مگر گرزوں کی مار ، خودوں کو توڑ کر ان کی عقلوں کو قائل کر گئی۔واضح بحثیں ان کی قوت استدلال کو متاثر نہ کر سکیں مگر گھوڑوں کی ٹاپوں نے ان کو اسلام کی صداقتوں کے تمام راز سمجھا دیئے۔فصاحت بلاغت بے کار گئی اور زور خطابت دلوں کو اس درجہ گرما نہ سکا کہ اسلام کا نور ان کے دلوں میں چمک اٹھتا حتی کہ خود عرش کے خدا کی طرف سے