مذہب کے نام پر خون — Page 23
۲۳ مذہب کے نام پرخون قبول کرنے سے انکار کر دیا۔لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی اور شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔طبیعتوں سے فاسد مادے خود بخود نکل گئے۔روحوں کی کثافتیں دور ہو گئیں اور صرف یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نور صاف عیاں ہو گیا بلکہ گردنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت بھی باقی نہیں رہی جو ظہور حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی جو اسلام کو اس سرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے لے “ إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یعنی وہ گندہ اور سخت بہیمانہ الزام جو اسلام کے اشد ترین متعصب دشمنوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر لگایا جا تا تھا جسے یورپ کے یاوه گومستشرقین گزشتہ صدی تک عیسائی دنیا میں اچھالتے رہے اور اسلام سے دلوں کو متنفر کرتے رہے وہ آج خود ایک مسلمان راہنما کی طرف سے اس مقدس رسول کی پاک ذات پر لگایا جا رہا ہے ایک ایسے راہنما کی طرف سے جسے ” مزاج شناس رسول “ “ ہونے کا دعویٰ ہے۔گوالفاظ کو میٹھا بنانے کی کوشش کی گئی ہے، گوتلوار کی اس مزعومہ فتح کو پر شوکت بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے مگر گولی وہی کڑوی اور نا پاک اور زہریلی گولی ہے جو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینکی جاتی تھی۔یہ وہی پتھر ہے جو اس سے پہلے جارج سیل اور سمتھ اور ڈوزی نے آنحضرت پر پھینکا تھا اور وہی الزام ہے جو مسٹر گاندھی نے آنحضور پر اس وقت لگایا تھا جب وہ اسلام کی تعلیم سے ابھی پوری طرح آشنا نہیں تھے اور محض دشمنان اسلام کی کہی ہوئی باتوں کوسن کر یہ تاثر قائم کر لیا تھا۔چنانچہ مسٹر گاندھی کے الفاظ میں:۔اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا جس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور آج الجہاد فی الاسلام صفحہ ۷ ۱۳، ۱۳۸ 66