مذہب کے نام پر خون — Page 299
کسی کو کوئی سزا دے۔۲۹۹ مذہب کے نام پرخون پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہودی حضرت مسیح علیہ اسلام کی والدہ حضرت مریم کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے اس کا ذکر قرآن مجید نے درج ذیل آیت میں کیا ہے :- وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا - ( النساء: ۱۵۷) ترجمہ:۔نیز ان کے کفر کے سبب سے نیز ان کے مریم پر ایک بہت بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے“۔یہاں بھی سوائے اس سزا کے جو خدا تعالیٰ خود دے گستاخی کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔یہ امر افسوسناک ہے کہ امام خمینی نے ایسا فتوی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کی بجائے غیر ارادی طور پر اسلام کو بدنام کیا ہے اور اس طرح آزاد دنیا میں اسلام کے مقدس نام کو بقہ لگانے کا موجب ہوئے ہیں۔جامعہ از ہر قاہرہ کی جامع مسجد کے امام صاحب پہلے ہی امام خمینی کے فتویٰ کو خلاف شرع قرار دے چکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے شیعہ مسلمان بھی ایسے ہیں جو اس معاملہ میں امام خمینی سے متفق نہیں ہوں گے۔ان تمام باتوں کے باوجود اس بارہ میں اصل مسئلہ کو نظر انداز کرنا انصاف کے منافی ہوگا۔میں سمجھتا ہوں یہ سراسر نا مناسب ہے ( اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض سیاستدانوں اور عالموں نے ایسا ہی کیا ہے ) کہ سلمان رشدی کی بجائے صرف امام خمینی کو برا بھلا کہا جائے حالانکہ سلمان رشدی وہ شخص ہے جس نے انتہائی مبتندل اور گری ہوئی زبان میں ایک ایسی کتاب لکھی ہے جو دنیا بھر کے کروڑوں کروڑ مسلمانوں کے لئے دل آزاری اور قلبی اذیت کا موجب ہوئی ہے۔پھر اسی پر بس نہیں اس کتاب نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پائی جانے والی پرامن فضا کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔اور جیسا کہ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے خطوط کے تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے اس نے نسلی عدم رواداری کا پٹ کھول کر کچھ کم قیامت نہیں ڈھائی ہے۔یہ بات پورے طور پر واضح ہو جانی چاہیے اور اس بارہ میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہنا