مذہب کے نام پر خون — Page 298
۲۹۸ مذہب کے نام پرخون اس میں شک نہیں کہ اسلامی دنیا میں بعض اضطراب زدہ خطے ہیں۔وہاں کے بعض حلقے تنظیمیں اور حتی کہ بعض حکومتیں بھی دہشت گردی ، تشدد اور تخریب کاری میں ملوث نظر آتی ہیں۔فلسطین ، لبنان، لیبیا اور شام کے بارہ میں اکثر اس نوعیت کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔دہشت گردی کے تعلق میں جن لوگوں کا ذکر آتا ہے اکثر مذہباً مسلمان ہی ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ سارے کے سارے ہی مسلمان ہوں۔مثال کے طور پر فلسطینیوں میں بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عہد باندھا ہوا ہے لیکن مذہباً وہ ہیں عیسائی۔کم علمی یا سہل پسندی کی وجہ سے مغربی ذرائع ابلاغ ان سب کو ہی اسلامی دہشت گرد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اسی طرح لبنان میں مسلمان دہشت گرد بھی ہیں اور عیسائی دہشت گرد بھی ہیں، پھر اسرائیلی ایجنٹس اور سپاہی بھی ہیں۔یہ سب انسانی حسیات کو خوف زدہ کرنے والی دہشت پسند سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں لیکن لبنان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے تعلق میں آپ یہودی یا مسیحی دہشت گردی کا تذکرہ کبھی نہیں سنیں گے۔تشدد کے تمام واقعات کو اکٹھا کر کے اور انہیں ایک لیٹے لپٹائے پیکٹ کی شکل دے کر اور اس پر ”اسلامی دہشت گردی کا لیبل لگا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔جہاں تک سلمان رشدی کا تعلق ہے کوئی صحیح الدماغ شخص جو حقیقی علوم قرآنی سے کسی حد تک بہرہ ور ہو امام خمینی سے اس امر میں اتفاق نہیں کر سکتا کہ اس کے خلاف سزائے موت کا فتویٰ اسلامی احکام پر مبنی ہے۔قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں گستاخی کی ایسی کسی سزا کا نام ونشان نہیں ملتا۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں آتا ہے:- وَلَا تَسُبُوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام : ۱۰۹) ترجمہ: اور تم انہیں جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں گالیاں مت دو نہیں تو وہ دشمن ہوکر جہالت کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دیں گے۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ کسی شخص کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی