مذہب کے نام پر خون — Page 300
مذہب کے نام پرخون چاہیے کہ میں دہشت گردی کا خواہ وہ کسی قسم اور نوعیت کی ہو ہرگز بھی حامی نہیں ہوں۔ایک دہشت گرد خواہ کسی بھی رنگ ونسل اور مذہب سے اس کا تعلق ہو اور اس کا مقصد بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو وہ بہر حال قابل مذمت ہے۔اسلام کسی بھی نوع کے فساد کو پسند نہیں کرتا اسی لئے اسلام اور دہشت گردی میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔کرنل قذافی تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے بل پر جس منظم دہشت گردی کے حامی ومویّد ہیں بھلا مذہب سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اسی طرح ماضی میں شام جس قسم کی دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اس کی مذہبی حیثیت کیا ہے؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اسلام اور سائنٹیفک سوشل ازم میں مابہ الامتیاز کیا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کرنل قذافی کی گرین بک (سبز کتاب) صرف بیرونی جلد کی حد تک ہی سبز رنگ کی ہے؟ جہاں تک کتاب کے مندرجات کا تعلق ہے وہ از اول تا آخر سرخ ہیں۔اگر ایران یا لیبیا کے بنیاد پرست مسلمانوں کی دہشت پسند سرگرمیوں کو اسلامی دہشت پسندی“ کے نام سے موسوم کیا جائے تو ان کے اسلام کا رنگ سیاہی مائل سبز قرار پائے گا یعنی ان کا مذہب اسلام اور کمیونزم کا عجیب و غریب آمیزہ ہوگا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اسلام کی کوئی بھی تصوراتی شکل خود اس کی اپنی شکل سے بنیادی طور پر مختلف کیسے ہوسکتی ہے؟ حیرت اس بات پر ہے کہ اسلام بیک وقت سبز بھی ہو اور سرخ بھی ، یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر اور کچھ نہیں تو لیبیا کی دہشت گردی کو بھیں بدلی ہوئی قوم پرستانہ دہشت گردی قرار دیا جاسکتا ہے۔اس ضمن میں کیوبا کے فیدل کاسترو FIDEL CASTRO یاد آئے بغیر نہیں رہتے۔وہ ظلم و تشدد اور قوم پرستانہ دہشت گردی کی دوڑ میں کرنل قذافی سے بہت آگے بلکہ ان کے پیشرو ہیں۔لیکن ایسا کبھی سنے میں نہیں آیا کہ کسی نے ان کی دہشت گردی کو مسیحی دہشت گردی قرار دیا ہو۔ا بات میں سے بات نکلتی ہے۔دہشت گردی کی بحث کے دوران تاریخ کے بہت سے پہلو افق ذہن پر بھرے بغیر نہیں رہتے۔خود عیسائیت ہی کو لے لیں وہ ظلم و تشد داور تعزیر وتعذیب کے آئینہ دار افعال میں ملوث رہی ہے۔بعض عیسائی بادشاہ تو اس گمراہ کن خیال کے پیش نظر کہ وہ