مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 22

۲۲ مذہب کے نام پرخون اشاعت اسلام کے بارہ میں مولانا مودودی اور بعض غیروں کے نظریات ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ بعض مسلمان رہنما جبر و تشدد کے نظریہ کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ ہمارے پاک آقا کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے دین اور اس کی قوت قدسیہ کو بھی اپنے کھو کھلے دلائل اور کرم خوردہ قوتوں کی طرح ایسا کمزور جانتے ہیں کہ گویا اگر تلوار اس کے قبضہ قدرت میں نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی وہ عظیم روحانی تبدیلی پیدا نہ کر سکتا جو عرب سے پھوٹنے والے اس روحانیت کے سرچشمہ نے چند سالوں میں کر کے دکھا دی تھی۔ان کے نزدیک اس مظلوم نبی کی دفاعی جنگیں محض اپنے مذہب کو پھیلانے کے لئے ایک جارحانہ اقدام تھا اور اس کی مکی زندگی کا دور محض ایک ناطاقتی کی دلیل تھی۔چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر مولانا مودودی نہایت واشگاف الفاظ میں رقم طراز ہیں :۔”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے وعظ و تلقین کا جو مؤثر سے مؤثر انداز ہو سکتا تھا اسے اختیار کیا۔مضبوط دلائل دیئے ، واضح حجتیں پیش کیں، فصاحت و بلاغت اور زور خطابت سے دلوں کو گرمایا۔اللہ کی جانب سے محیر العقول معجزے دکھائے۔اپنے اخلاق اور پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کے لئے مفید ہوسکتا تھا لیکن آپ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپ کی صداقت کے روشن ہو جانے کے باوجود آپ کی دعوت