مذہب کے نام پر خون — Page 286
۲۸۶ مذہب کے نام پرخون اور تم ان سے مسجد حرام کے قرب و جوار میں اس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے اس میں جنگ کی ابتداء نہ کریں اور اگر وہ وہاں بھی تم سے جنگ کریں تو تم بھی انہیں قتل کرو۔ان کا فروں کی یہی سزا ہے۔اُدھر ان تمام بڑی طاقتوں نے جو اسرائیل کی کھلم کھلا یا پوشیدہ طور پر مدد کر رہی ہیں (اور ان میں امریکہ خاص طور پر بہت پیش پیش ہے ) خمینی اور خمینی ازم سے کچھ کم فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔وہ اس طرح کہ انہوں نے خمینی کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہنے دیا سوائے اس کے کہ وہ ایران عراق جنگ کو طول دے اور دیتا چلا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس جنگ نے مسلم دنیا کی توجہ اس کانٹے (یعنی اسرائیل) کی طرف سے ہٹا کر جو ان کے پہلو میں چھا ہوا ہے اور جس کی چبھن سے مسلسل ٹیسیں اٹھ رہی ہیں یکسر ایک نئے مسئلہ کی طرف پھیر دی۔ایک بیرونی دشمن کی دشمنی کا احساس تو مٹ کر رہ گیا اُلٹا ہوا یہ کہ خود مسلمانوں میں باہم بدظنی اور بے اعتمادی کی فضا پنپنے لگی۔اور ہوتے ہوتے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ایسا نفاق پڑا کہ وہ ایک دوسرے سے پھٹ کر رہ گئے۔اسرائیل کا خطرہ ایک معمولی اور بے حیثیت خطرہ کی شکل اختیار کر گیا۔اس کے بالمقابل مسلمانوں کے ایک طبقہ کے لئے دوسرے طبقہ کے خوف نے اس قدر اہمیت اختیار کر لی اور اس میں اس قدر شدت پیدا ہوگئی کہ ہر بیرونی دشمن کا اصلی یا خالی خوف نگاہوں سے اوجھل ہوئے بغیر نہ رہا۔دومسلمان ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں سادہ مزاج سپاہی کو مغالطہ دینے کے لئے اکثر و بیشتر دونوں طرف یہ نعرہ لگتا رہا کہ اسلام خطرے میں ہے۔دراصل عراق اور ایران کے مابین جنگ کے دوران جو کچھ وقوع پذیر ہور ہا تھا اس کی حیثیت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ عرب و عجم کا قدیمی بغض و عناد پھر عود کر آیا تھا۔کفر و اسلام کی باہمی آویزش یا شیعہ سنی مناقشہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔بلکہ یہ عرب و عجم کے مابین ہزاروں سال پرانے تنازعات کے اعادہ کا ہی کرشمہ تھا جو زمانہ دراز سے دبے ہوئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ عرب بھی جو پہلے عراق اور سعودی عرب سے نالاں رہتے تھے ایران کے بالمقابل عراق کی حمایت میں پیش پیش نظر آنے لگے۔اُس وقت ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے اور چیلنج کے بالمقابل عربوں کے لئے اپنی ہستی کو برقرار رکھنے کا سوال اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور ایک طرح سے