مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 285

۲۸۵ مذہب کے نام پرخون فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُم وورودر تُرْحَمُونَ۔(الحجرات : ۱۱،۱۰) اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں میں صلح کرا دو۔پھر اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے کوئی ایک، دوسرے پر چڑھائی کرے تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔پھر اگر وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان دونوں لڑنے والوں میں صلح کرا دو اور انصاف کو مد نظر رکھو۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔مومنوں کا رشتہ آپس میں صرف بھائی بھائی کا ہے۔پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان جو آپس میں لڑتے ہوں صلح کرا دیا کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔جنگ کے دوران دونوں ہی متحارب قوموں ( عراق اور ایران ) نے قرآن مجید کی مندرجہ بالا تعلیمات کو نظر انداز کیا اور وہ ان تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کی مرتکب ہوئیں۔مکہ میں سالانہ حج کے موقع پر ایران کی طرف سے حج پر آنے والے مسلمانوں کی وساطت سے خمینی انداز کے انقلاب کا پیغام باقی اسلامی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔بدقسمتی سے یہ کوششیں بعض اوقات بہت ہی ناروا اور ناگوار واقعات پر منتج ہوئیں۔یہ واقعات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بے حد پریشانی اور فکر مندی کا باعث ہوئے۔مثال کے طور پر ۷ ۱۹۸ ء کے حج کے موقعہ پر مکہ میں جو کچھ ہوا اور صورتِ حال کے مقابلہ کے لئے سعودی عرب کی حکومت نے دو انتہائی نوعیت کے اقدام کئے مغربی ذرائع ابلاغ نے انہیں خوب اچھالا لیکن برخلاف اس کے قرآن مجید تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے:۔19 وَ لا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيهِ ۚ فَإِن قَتَلُوكُم ط فَاقْتُلُوهُمْ كَذلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ۔(البقرة : ١٩٢)