مذہب کے نام پر خون — Page 284
۲۸۴ مذہب کے نام پرخون قرآن مجید کا فرمان ہے :- ( إِنَّ اللهَ يُدْفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَانٍ كَفُورٍ - أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ - الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَ لَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمُ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتَ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ - (الحج: ۳۹ تا ۴۱) اللہ یقیناً ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں ان کا دفاع کرتا رہے گا۔اللہ یقیناً ہر خیانت کرنے والے اور انکار کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔وہ لوگ جن سے بلا وجہ جنگ کی جارہی ہے اُن کو بھی جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو اُن کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا اور اگر اللہ کفار میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے شرارت سے باز نہ رکھتا تو گر جے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے برباد کر دیئے جاتے اور اللہ یقینا اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔اللہ یقیناً بہت طاقتور اور غالب ہے۔(ب) كلما أوقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللهُ وَ يَسْعَونَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ - (المائدة : ۶۵) جب کبھی بھی انہوں نے لڑائی کے لئے کسی قسم کی آگ بھڑکائی ہے تو اللہ نے اسے بجھا دیا ہے اور وہ ملک میں فساد کے لئے دوڑے پھرتے ہیں اور اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔(ج) وَ اِنْ طَابِفَتنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِن بَغَتْ ج احديهما على الأخرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِى حَتَّى تَفِيءَ إِلَى اَمرِ اللهِ فَإِنْ