مذہب کے نام پر خون — Page 283
۲۸۳ مذہب کے نام پرخون اسلام مغرب والوں کو کتنا ہی قابل نفرین کیوں نہ نظر آئے انہیں تو اسے اپنے لئے باعث رحمت قرار دینا چاہیے۔جسے وہ اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے تھے اس میں ان کے لئے ایک رحمت پوشیدہ تھی۔انہیں اپنا نقطہ نظر بدل کر آیت اللہ خمینی کے کردار کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ہو سکتا ہے کہ موضوع زیر بحث سے ایران عراق جنگ کا کوئی تعلق نظر نہ آئے لیکن دنیائے اسلام کے بعض حصوں میں جو دھما کہ خیز واقعات رونما ہورہے ہیں ان کی اصلیت اور نوعیت کو سمجھنے میں اس جنگ سے بہت کچھ روشنی اور رہنمائی حاصل ہوسکتی ہے۔دونوں ملک اس امر کے دعویدار ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور علی الاعلان اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے نفرت کرنے ، ایک دوسرے کو تباہ کرنے اور ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی جملہ کارروائیوں میں اسلام کے مقدس نام سے ہی رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی عطا کردہ روشنی میں آگے قدم بڑھاتے ہیں۔میدانِ جنگ میں عراق کے جتنے سپاہی بھی مارے گئے عراقی ذرائع ابلاغ نے انہیں شہید قرار دے کر ان کی عظمت کے ترانے گائے اور جو ایرانی عراقیوں کے ہاتھوں مارے گئے انہیں ڈنکے کی چوٹ کا فر قرار دیا گیا اور بقول عراقی ذرائع ابلاغ وہ سب جہنم رسید ہوئے۔اُدھر سرحد پارا ایران میں کھیت رہنے والے ایرانی فوجیوں کے حق میں اور عراقی فوجیوں کے خلاف ایسی ہی کتھا سنائی جاتی رہی۔جب میدانِ جنگ میں گولی لگنے سے کوئی عراقی سپاہی مارا جا تا تھا تو ایرانی فوجوں کی طرف سے میدانِ جنگ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا اور اگر گولی ایرانی سپاہی کو لگتی اور وہ مارا جا تا تو عراقی فوجی اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرتے۔دنیا حیران تھی کہ طرفین میں سے اسلام کس کے ساتھ ہے اور کس کے ساتھ نہیں ہے؟ کس کے نعرے اصلی ہیں اور کس کے کھو کھلے؟ ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہو کر جو چیز ثابت ہوتی اور ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی اور عراقی سپاہی جنہوں نے اپنی اپنی جگہ ایک مقدس مشن کی خاطر میدانِ جنگ میں جانیں قربان کیں دونوں ہی اپنی اپنی لیڈرشپ کے فریب میں آئے ہوئے تھے۔دونوں ہی طرف کے نعرے کھو کھلے تھے۔اسلام نہ اس طرف تھا نہ اُس طرف۔