مذہب کے نام پر خون — Page 233
۲۳۳ مذہب کے نام پرخون اس صورتِ حال میں ارتداد کا سوال ہی سراسر بے محل اور بے معنی ہے۔اس کا اصل جرم تھا ہی علی الاعلان بغاوت۔لمحہ بھر کے لئے ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ لقیط بن مالک از دی اور اس کے ساتھیوں نے اسلام سے ارتداد اختیار نہیں کیا تھا بلکہ وہ مسلم ریاست کے خلاف صرف بغاوت کے مرتکب ہوئے تھے۔ایسی صورت میں حکومت بغاوت فرو کرنے کے لئے اقدام کرتی یا نہ کرتی ؟ ظاہر ہے کہ بغاوت فرو کرنے کے لئے اس نے اقدام کرنا ہی تھا۔ملک میں افراتفری پھیلانے اور فساد برپا کرنے کی سزا قرآن مجید نے قتل مقرر کی ہے، مجردار تداد کی یہ سزا ہرگز مقر ر نہیں ہے۔(و) ارتداد کی بناء پر قتل کی سزا کے حامی ام قرفہ کے واقعہ کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔یہ عورت حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں مرتد ہو گئی تھی۔اس کے تیس بیٹے تھے اور وہ انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے پر مسلسل اکساتی رہتی تھی۔اسے اس کی غداری اور قتل و غارت گری کی بناء پر قتل کر دیا گیا تھا۔اس کو یہ سزا اس کے ارتداد کی وجہ سے ہر گز نہیں دی گئی تھی۔(ز) خوارج کے خلاف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہم جوئی کا بھی اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔خوارج وہ لوگ تھے جنہوں نے زمین میں فساد برپا کیا تھا۔انہوں نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں ہی کو نہیں بلکہ حضرت علی کے مقرر کردہ گورنر ، اس کی ایک غلام عورت اور حضرت علی کے سفیر کوموت کے گھاٹ اتار دیا تھا ( خوارج کے متعلق بحث صفحہ ۲۰۷، ۲۰۸ پر کی گئی ہے )۔(ہ) حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری یمن میں گورنر مقرر ہوئے۔اس ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کیونکہ سزائے قتل کے حامی اپنے نظریہ کی تائید میں اس واقعہ کو بھی پیش کرتے ہیں۔واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب یہ دونوں ( حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ) اپنی تقرری کے بعد یمن روانہ ہونے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو اور انہیں مشکل میں نہ ڈالو۔ان کے ساتھ خوش دلی سے کلام کرو اور ایسا رویہ اختیار نہ کرو جو انہیں ناگوار گزرے اور انہیں تم سے دور کرنے کا باعث ہو۔ایک دن حضرت معاذ، حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ملنے آئے۔انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کو لوگوں نے رسی سے جکڑا ہوا ہے۔جب حضرت معاذ نے اس شخص کے بارہ میں