مذہب کے نام پر خون — Page 234
۲۳۴ مذہب کے نام پرخون دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی ہے جو مسلمان ہو گیا تھا لیکن اب یہ مرتد ہو کر پھر اپنے مذہب کی طرف واپس لوٹ گیا ہے۔راوی نے مزید بیان کیا گزشتہ دو تین ماہ سے مسلمان اس شخص کے ساتھ بحث کر کے اسے سمجھا رہے ہیں کہ وہ پھر مسلمان ہو جائے لیکن اس پر اثر ہی نہیں ہوتا۔اس پر حضرت معاذ نے کہا۔میں سواری سے اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک اس شخص کو قتل نہ کر دیا جائے۔نیز یہ بھی کہا کہ یہ خدا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔حضرت معاذ کے قول کا آخری حصہ ان کی ذاتی رائے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق خدا اور رسول کا جو منشاء سمجھا اسے بیان کر دیا۔قانون کی نگاہ میں ایسی ذاتی آراء اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتیں تا وقتیکہ واضح حقائق کی روشنی میں باقاعدہ حوالہ جات کی رو سے ان کا باوزن ہونا ثابت نہ کر دیا جائے۔(اسی باب میں آگے چل کر اس اصول کو قدرے وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے)۔آئیے اب ہم اس حدیث کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔حضرت معاذ کا مذکورہ بالا قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے سراسر خلاف ہے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو اور ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جو انہیں منحرف کرنے کا موجب بنے۔ایک ایسے بنیادی مسئلہ کے بارہ میں جس سے انسانی حقوق براہ راست طریق پر متاثر ہور ہے ہوں معاذ کے قول کی اصابت کو جانچے بغیر اس بارہ میں صرف ایک حدیث پر انحصار کرنا اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں تک اس حدیث، اس کے سلسلہ اسماء الرجال اور اس کے مستند ہونے کا تعلق ہے اس بارہ میں بہت سے شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔جب شکوک وشبہات کی وجہ سے کسی حدیث کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہو تو اصولاً ایسی حدیث کو بکلی مستر دکر دیا جاتا ہے۔اس ضمن میں یہ امر بھی یادرکھنا چاہیے کہ یہ احادیث ظہور اسلام کے تین چار صدیوں بعد جمع اور مرتب کی گئی تھیں۔اندریں صورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یادداشت میں غلطی کے امکان کو کلی طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ایک حدیث کی رو سے اس یہودی کو معاف کی زیر ہدایت قتل کیا گیا۔ایک اور حدیث کی رو سے معاذ نے خود اسے اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔بنیادی اہمیت کے ایک واقعہ میں جب