مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 232

۲۳۲ مذہب کے نام پرخون چنانچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسیلمہ نے ایک زبردست فوج جمع کی جو بنو حنیفہ کے چالیس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور پھر مدینہ کی طرف پیشقدمی کر کے خود جارحیت کا آغاز کیا۔چنانچہ جب وہ جارحیت کا آغاز کر بیٹھا تب حضرت ابو بکر نے اس کی کھلی کھلی بغاوت اور حضرت حبیب بن زید کے قتل کی بھیانک واردات کے جواب میں اس کے خلاف اسلامی لشکر کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔(ج) ایک اور واقعہ جسے بطور مثال پیش کیا جاتا ہے نبوت کے ایک اور جھوٹے مدعی طلیحہ سے متعلق ہے۔اس نے صرف نبوت کا جھوٹا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا بلکہ اس نے عکاشہ بن محصن اور ثابت بن ارقم انصاری کو قتل کر ڈالا تھا۔حضرت خالد بن ولید نے اس کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے سے قبل ایک سفیر کے ذریعہ اسے یہ پیغام بھجوایا کہ وہ صلح کرلے اور خون خرابے سے باز رہے۔سزائے قتل کے حامی اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اگر ارتداد کی سزا قتل ہوتی تو پھر طلیحہ کو معافی دینے کی غرض سے اس کے پاس کسی سفر کو بھیجنے میں کوئی شک نہ تھی۔( د ) ایسا ہی معاملہ اسود عنسی کا ہے۔اس نے ارتداد اختیار کر کے علم بغاوت بلند کیا۔اسی پر بس نہیں بلکہ اس نے یمن کے مسلمان گورنر شہر بن باذان کو قتل کر کے اس کی بیوہ سے زبر دستی شادی کر لی ، خود یمن کا حاکم بن بیٹھا اور پورے یمن میں اپنے حاکم ہونے کا باقاعدہ اعلان کروایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بغاوت کا علم ہوا تو آپ نے معاذ بن جبل اور دوسرے مسلمانوں کو ایک خط کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ وہ بعد ازاں مسلمانوں کے ساتھ ایک لڑائی میں مارا گیا۔اس کی موت کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک روز بعد مدینہ پہنچی۔(ه) اسی طرح لقیط بن مالک از دی مرتد ہو گیا اور اس نے بھی نبی ہونے کا دعوی کیا۔اس نے جعفر اور عباد کو جو سرکاری اہل کاروں کے طور پر عمان میں مقرر تھے وہاں سے نکال باہر کیا۔اس کا بھی دوسرے مدعیانِ نبوت کی طرح مذہب سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا۔وہ بھی ارتداد کی آڑ میں اپنے سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس کی غرض یہ تھی کہ اسلامی مملکت میں رہنے کے باوجود اس کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اقتدار پر قبضہ جمائے اور اس طرح سیاسی غلبہ حاصل کرے۔