مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 203

۲۰۳ مذہب کے نام پرخون طرف یہ پیغام بھجوایا کہ وہ اس موقع پر مرکزی حکومت کی مد کو پہنچیں۔آپ ابھی ان کی طرف سے کمک کا انتظار ہی کر رہے تھے کہ اس اثناء میں خارجہ بن حصم نے یو نیناہ بن حصم الفزاری اور الاقرابن حابس التمیمی کی سرکردگی میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا۔پہلے تو مسلمان افراتفری کے عالم میں بھاگ نکلے لیکن انہوں نے فوراً ہی دوبارہ جمع ہو کر خارجہ کے آدمیوں پر بھر پور حملہ کیا اور انہیں بھاگنے اور شکست کھانے پر مجبور کر دیا۔ذوالقصہ کے مقام پر ہونے والی اس جھڑپ سے پہلے عرب قبائل کا ایک وفد ز کوۃ کے مسئلہ پر حضرت ابوبکر کے ساتھ گفت و شنید کرنے مدینہ آیا تھا لیکن آپ نے ان کے ساتھ گفت وشنید سے انکار فرما دیا۔بعض ابتدائی اور نمایاں حیثیت رکھنے والے مہاجرین نے حضرت ابوبکر کے اس فیصلہ سے اتفاق نہ کیا کہ آپ زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے خلاف جنگ کریں گے۔اس امر سے کہ یہ قبائل گفت وشنید کے خواہاں تھے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرتد نہیں ہوئے تھے اور یہ کہ وہ مدینہ سے تعلق منقطع کرنا نہیں چاہتے تھے البتہ وہ اپنے اوپر مدینہ کی سیاسی بالا دستی اور کنٹرول کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔جہاں تک باغی قبائل کے طرز عمل کا تعلق ہے اللہ اور رسول پر ایمان ما بہ النزاع نہیں تھا۔مابہ النزاع صرف ایک امر تھا یعنی زکوۃ (ٹیکس) کی ادائیگی سے انکار۔بعض معروف اور نامور صحابہ نے حضرت عمر کی سرکردگی میں باغیوں کے خلاف جنگ کرنے سے متعلق حضرت ابوبکر کے فیصلہ پر اعتراض کیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا ” ان لوگوں کے خلاف آپ کو جنگ کرنے کا کیا حق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا مجھے اس وقت تک ہی جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا الله نہ پکار اٹھیں۔اگر وہ زبان سے لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دیتے ہیں تو انہیں از خود میری طرف سے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت مل جاتی ہے لے باغی قبائل کے وفد کی مدینہ سے روانگی کے بعد حضرت ابوبکر نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ان سے مخاطب ہو کر فرمایا :- وفد نے دیکھ لیا ہے کہ مدینہ میں اب تم کتنی تھوڑی تعداد میں ہو۔تمہیں اس بات کا لے محمد ادریس الشافعی کی کتاب ”کتاب الائتم جلد ۸ صفحہ ۲۵۶‘ ایڈیشن شائع کردہ محمد ظاہری النجار قاہرہ