مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 204

۲۰۴ مذہب کے نام پرخون کوئی علم نہیں ہے کہ وہ دن کو تم پر حملہ کرتے ہیں یا رات کو۔ان کا ہراول دستہ مدینہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔وہ ہم سے چاہتے تھے کہ ہم ان کی تجاویز قبول کرلیں اور ان کی شرائط کے مطابق ان کے ساتھ معاہدہ طے ہولیکن ہم نے ان کی یہ درخواست مستر د کر دی ہے۔پس ان کے حملہ کو پسپا کرنے کے لئے تیاری کروٹ " ہوا بھی یہی انہوں نے تین دن کے اندر اندر مدینہ پر حملہ کر دیا۔جنگ رڈہ کے نتیجہ میں بہت خون خرابہ ہوا۔بعد میں آنے والے مؤرخین کے لئے یہ بات نا قابل فہم تھی اور اس کی کوئی توجیہہ ان کے ذہن میں نہ آتی تھی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات کے بعد سر زمین عرب میں اتنی زیادہ جنگوں کی ضرورت کیوں پیش آئی۔انہوں نے اس کا سبب اپنی طرف سے اس امر کو قرار دے ڈالا کہ اسلام کے خلاف التر وہ نامی ایک مذہبی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی ہے۔حالانکہ یہ مذہبی تحریک تھی ہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کے خلاف ایک کھلی کھلی بغاوت کے علاوہ اس کی اور کوئی حیثیت نہ تھی۔اُدھر بعد میں آنے والے فقہاء کو ایسے مسلمانوں کے قتل کے بارہ میں جن پر کفر اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو قرآن وسنت سے کوئی سند نہ مل سکی تھی اور نہ مسلمان سیاسی طاقتوں کے خلاف جنگ کرنے کے بارہ میں کسی سند جواز تک ان کی رسائی ہوسکی تھی اس لئے انہوں نے خود تحقیق کی زحمت اٹھائے اور سر دردی مول لئے بغیر مؤرخوں کے اس مفروضہ کو کہ اسلام کے خلاف ایک مذہبی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی درست تسلیم کر لیا۔مسلمان باغیوں کے خلاف حضرت ابوبکر کی جنگ کی قانونی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے حضرت امام شافعی کہتے ہیں۔رڈہ کہتے ہیں کسی پہلے سے اختیار کئے ہوئے مذہب کو ترک کر کے عدم ایمان کی حالت میں جا گرنے کو اور پہلے قبول کی ہوئی ذمہ داری پوری کرنے سے انکار کرنے کو سے لیکن مرتدوں کو سزا دینے یا ان کے خلاف جنگ کرنے کے لئے ان کا محض ارتداد کافی نہیں ہے لے ابو جعفر محمد بن جریر الطبری تاریخ الرسول والملک ایڈیشن شائع کردہ M۔J۔GORJE(لائیڈن ۱۹۶۴ء) جلد چہارم صفحہ ۱۸۷۴ سی۔ایچ۔بیکر THE EXPANSION OF THE SARACENS دی کیمبرج میڈیول ہسٹری نیو یارک میکملن ۱۹۱۳ء) جلد ۱۱ صفحه ۳۳۵ سے محمد ادریس الشافعی کتاب الام جلد ۸ صفحه ۲۵۶،۲۵۵