مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 202

مذہب کے نام پرخون سارہ جسے گڑ بڑ پھیلانے کے جرم میں قتل کی سزا کا مستحق قرار دیا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قتل نہیں ہوئی اور بعد میں بھی زندہ رہی۔فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابو جہل یمن کی طرف بھاگ نکلا تھا۔اس کی بیوی ام حکیم مسلمان ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لئے معافی اور جاں بخشی کی خواستگار ہوئی۔آپ نے اس کی درخواست قبول فرماتے ہوئے عکرمہ کو معاف فرما دیا۔ان تمام واقعات میں بھی ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام سے محض ارتداد اختیار کرنے والے کسی شخص کو کوئی سزا دی ہو۔۱۱ ہجری مطابق ۶۳۲ عیسوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے معا بعد نو خیز مسلم حکومت کو ایک بہت بڑے بحران سے دو چار ہونا پڑا۔جزیرہ نمائے عرب کے بعض حصوں میں لاقانونیت کی کیفیت پیدا ہوگئی اور بہت سے قبائل نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کر کے مدینہ سے اپنا تعلق منقطع کر لیا۔یہ باغیانہ تحریک الروہ کے نام سے موسوم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ حضرت ابوبکر کو سب سے اہم معاملہ یہ در پیش تھا کہ آپ اس بے چینی اور افراتفری کا خاتمہ کریں لیکن پہلا اور سب سے مقدم کام آپ کا یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل جس فوجی مہم کا حکم دیا تھا آپ اس مہم کے سلسلہ میں لشکر روانہ کریں چنانچہ آپ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد دوسرے ہی روز اسامہ بن زید بن حارث کی کمان میں اسلامی لشکر کو شامی سرحد کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔اسامہ اور ان کے لشکر کے روانہ ہونے کے بعد اکثر قبائل نے مدینہ کی حکومت سے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔صرف مکہ اور مدینہ اور ان کے ملحقہ علاقے ہی تھے جو مرکزی حکومت کے زیر نگیں باقی رہ گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل میں جن لوگوں کو اپنے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا وہ ان کے علم بغاوت بلند کرنے پر اپنی جگہوں سے بھاگنے اور مدینہ واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے یہ ہر لحاظ سے بھر پور نوعیت کی کھلی کھلی بغاوت تھی۔باغیوں کے خلاف جنگ کرنے کے فیصلہ کے بعد حضرت ابوبکر نے بعض وفادار قبائل کی ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹