مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 160

17۔مذہب کے نام پرخون جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ? ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے ہو کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟ شور ہے ہوگئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو میں علماء سے پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کی یہ سخت درد ناک حالت اس مقام تک اسی لئے پہنچی کہ ظفر اللہ خاں نے ایک دن پاکستان کا نمائندہ بننا تھا؟ اور کیا یہ تمام مسلمان جن کا ذکر علامہ حالی اور علامہ اقبال نے کیا ہے بس اسی وجہ سے اس خستگی کا شکار ہو گئے کہ ایک قلیل التعداد جماعت پر ختم نبوت“ کے انکار کا الزام لگایا جانا تھا؟ اس وقت علماء کو اسلام کے متعلق جو خطرات نظر آرہے ہیں وہ اگر چہ سچ بھی ہوں تو ان کی مثال ان حقیقی خطرات کے سامنے جو ان کو نظر نہیں آرہے ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک حملہ آور ہولناک درندے سے تو آنکھیں بند کر لے اور پیٹھ موڑ کر بیٹھ جائے اور ایک حسین پھول پر میٹھی ہوئی حسین تتلی کو اپنی جان کا سخت دشمن سمجھ کر سخت خوفزدہ نگاہیں اس پر ڈالے اور کبھی خوف سے پیچھے ہٹ جائے اور کبھی غصہ سے آگے بڑھے تاکہ اسے اپنی انگلیوں میں مسلے اور پاؤں تلے روند ڈالے یا پھر بعینہ اس شخص کی طرح کہ جسے کمزور پر توسخت غصہ آتا تھا مگر طاقتور کو دیکھ کر اس کا دل