مذہب کے نام پر خون — Page 161
171 مذہب کے نام پرخون جذبات رحم و درد سے بھر جاتا تھا۔وائے افسوس! نہ تو یہ آریوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں نہ عیسائیوں کے خلاف۔نہ انہیں مشرک یورپ پر غصہ آتا ہے نہ دہر یہ روس پر۔اور اندرونی برائیوں کے کوہ ہائے گراں کو بھی دور کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔ہاں غصہ آتا ہے تو ان کمزور قلیل التعداد احمدیوں پر جن کا جرم صرف یہ ہے کہ ان کے نزدیک حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی نہایت صفائی اور شان کے ساتھ پوری ہو چکی ہے جس میں ایک مہدی اور ایک مسیح کے آنے کی خوشخبری دی گئی تھی۔وہی مہدی اور وہی مسیح جس کے ہاتھوں سے آخری زمانہ میں عیسائیت اور دیگر مذاہب پر اسلام کا غلبہ مقدر تھا! پس ان کو انہی قلیل التعداد احمدیوں پر غصہ آتا ہے جو اسلام کی تبلیغ کے لئے ساٹھ کروڑ مسلمانوں کا درد اپنے سینوں میں لئے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرآن لے کر نکل کھڑے ہوئے ہیں جن کے مقابل پر آج ہر جگہ عیسائیت کے پاؤں اکھڑے چلے جارہے ہیں اور اسلام آگے بڑھ رہا ہے۔جنہوں نے یورپ کے دل میں بھی مسجدیں بنا دیں اور افریقہ کے تاریک و تار جنگلوں میں بھی کلمات تکبیر بلند کئے اور جن کو یہ فخر حاصل ہے کہ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سیاہ براعظم اسلام کے نور سے بڑی تیزی کے ساتھ منور ہورہا ہے۔کہاں وہ راتیں کہ جب عیسائی پادری یہ سمجھا کرتے تھے کہ چند سالوں کے عرصہ میں وہ سارے افریقہ کو عیسائی بنالیں گے اور کہاں یہ دن کہ آج ایک عیسائی کے بدلہ میں دس افریقن مشرکین اسلام قبول کر رہے ہیں۔ہاں اسی جرم کی پاداش میں یہ احمدی اس وقت اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور ان کا علاج بھی وہی ایک علاج ہے جو ہمیشہ سے ایسے مجرموں کا ہوتا چلا آیا ہے یعنی مسائل کو بالائے طاق رکھ دو اور نصیحت کا خیال تک نہ دل میں آنے دو۔ہاں تلوار میں اٹھاؤ اور ان کے مردوں ، عورتوں اور بچوں کو تہہ تیغ کر دو یہاں تک کہ ان کا نشان تک دنیا میں باقی نہ رہے یا پھر یہ ”منافقت کی زندگی اختیار کر لیں اور ان علماء کی ملت میں لوٹ جائیں جن کے ایماء پر ان کے قتل عام کا جشن منایا جارہا ہو۔لیکن ان علماء کی ملت کونسی ملت ہے اور یہ اتحاد تا بگے؟ ہم احمدیت سے تو بہ کر کے وہ کونسا