مذہب کے نام پر خون — Page 159
۱۵۹ یاں راگ ہے دن رات تو واں رنگ شب و روز مذہب کے نام پرخون محفل اعیاں ہے وہ بزم شرفا ہے چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے دولت ہے نہ عزت، نہ فضیلت نہ ہنر ہے اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے (مسدس حالی) یہ علامہ حالی کی زبان سے مسلمانوں کی زبوں حالی کا اس وقت کا نقشہ ہے جب ابھی حالت اس سے بہتر تھی۔اب تو صورت حال اور بھی دگرگوں ہو چکی ہے اور اقبال کی پیش کردہ تصویر حقیقت سے نسبتا زیادہ قریب ہے۔ان کے نزدیک مسلمانوں کے :- ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں بادہ آشام نئے بادہ نیا کم بھی نئے حرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے طبع آزاد قید رمضاں بھاری ہے تم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے؟ قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں