مذہب کے نام پر خون — Page 158
۱۵۸ مذہب کے نام پرخون جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی سیزر و کسری خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے جو دین کہ تھا شرک سے عالم کا نگہباں اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے اُس دین میں خود تفرقہ اب آکے پڑا ہے جس دین نے تھے غیروں کے دل آکے ملائے اُس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے جو دین کہ ہمدرد بنی نوع بشر تھا اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر غناء بھی اس دین میں اب فقر ہے باقی نہ غناء ہے جو دین کہ گودوں میں پلا تھا حکماء کی وہ عرضہ تیغ جُہلا و سفہاء ہے جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے ہے دین ترا اب بھی وہی چشمہ صافی دینداروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے