مذہب کے نام پر خون — Page 157
۱۵۷ مذہب کے نام پرخون بہر حال ان علماء کا یہ عجیب حال ہے کہ ختم نبوت کا وہ فرضی انکار جو احمد یوں نے کبھی نہیں کیا آج ان کے لئے اسلام کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے اور اسلام کی زندگی اور موت کے وہ ان گنت مسائل جن سے وہ ہر روز اپنے شہروں، اپنے قصبات اور اپنے دیہات کی گلی گلی میں دو چار ہوتے ہیں ان کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے ! ان کی زود حسی اور بے حسی کا یہ اجتماع ضدین ایک عجیب تمسخر آمیز صورت اختیار کر لیتا ہے جب ہم انہیں ایک طرف تو پاکستان بننے تک بلکہ بعد میں بھی اس نظریہ کا قائل پاتے ہیں کہ بس اکھنڈ ہندوستان ہی مسلمان کے مفاد کا ضامن ہو سکتا ہے اور مسٹر گاندھی اور و لبھائی پٹیل اور پنڈت نہرو کی قیادت میں کانگرس کی صفوں میں ” چپ و راست۔۔۔۔چپ و راست کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور دوسری طرف چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کی پاکستان کی مرکزی کابینہ میں شمولیت ان کی آنکھ کا پھوڑا بن جاتی ہے اور اقوام متحدہ میں ان کا پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرنا انہیں اسلام کے لئے ایک ہولناک خطرہ نظر آتا ہے۔علماء کی اس طرز فکر پر کبھی ہنسی آتی ہے تو کبھی رونا آتا ہے۔مقدور ہو تو ایک ایک عالم کو سامنے بٹھا کر پوچھوں کہ بتاؤ تو سہی کہ گاندھی کی پیروی سے اسلام کس طرح زندہ ہو سکتا تھا اور اب ظفر اللہ خاں کی نمائندگی سے مرکس طرح سکتا ہے؟ کیا اسلام کا ان امور سے کوئی دور کا بھی واسطہ ہے؟۔۔۔۔اسلام اگر زندہ ہو سکتا ہے تو ہر مسلمان کے سینہ میں شمع ایمان کے جلنے سے زندہ ہو سکتا ہے اور مرسکتا ہے تو انہیں شمعوں کے بجھ جانے سے۔پھر کیا گاندھی کی پیروی سے یہ سب شمعیں ایک ایک کر کے جلنے لگی تھیں اور کیا آج ظفر اللہ کی نمائندگی کے جھونکوں سے معایہ شمعیں بجھنے لگی ہیں؟ کیا ساٹھ کروڑ مسلمانوں کے ایمان کی زندگی اور موت بس انہی دو حادثات پر موقوف تھی یا ہے؟ کیا یہ علماء نہیں جانتے کہ اسلام کو پیش آمدہ خطرات کا کسی وزیر کی وزارت سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ یہ خطرات محض اس نازک صورتِ حال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے علامہ حالی نہایت درجہ درد کے ساتھ رقمطراز ہیں۔اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت یہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے