مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 155

۱۵۵ مذہب کے نام پرخون اس کے بالکل برعکس خیالات منسوب کر کے ہمیں بھیانک صورت میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔یہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس بیان کی طرف بھی مطلق نگاہ نہیں کرتے کہ :- ”ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیاوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالی اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے ،، سیدنا ومولانا سید الکل وافضل الرسل حضرت خاتم النبین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے۔سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے گے ،، ختم نبوت کے مسئلہ پر تفصیلی بحث کا یہاں موقع نہیں جو دوست اس بارہ میں جماعت احمد یہ کے مسلک سے واقفیت حاصل کرنا چاہیں وہ کسی وقت بھی سلسلہ کے مرکز سے لٹریچر منگوا کر تفصیلی اور یقینی معلومات حاصل فرما سکتے ہیں۔مگر میں ضمناً یہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم اس خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں جس کے قبضہ قدرت میں ہماری جان ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے کہ ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کو اس مقام سے ایک ذرہ بھی زیادہ یا کم نہیں سمجھتے جو مقام حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے آنے والے بادی ، مہدی اور مسیح کو دیا ہے۔ہمارے اور ہمارے دوسرے بھائیوں کے درمیان اس مسئلہ میں صرف اتنا فرق ہے کہ وہ جس مہدی اور مسیح کی آمد کے انتظار میں ہیں ہمارے نزدیک وہ مہدی اور مسیح آچکا۔اب ظاہر ہے کہ اگر اس آنے والے کی ا ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۰،۱۶۹ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲