مذہب کے نام پر خون — Page 154
۱۵۴ مذہب کے نام پرخون بیٹھ کر عبادت کے تمام ظاہری ارکان کو ایک غیر روحانی سختی کے ساتھ ادا کر دیا جائے؟ مگر افسوس کہ ان بیرونی خطرات کی طرف بھی ان علماء کی آنکھ نہیں اٹھتی اور اندرونی خطرات کی طرف بھی نہیں اور اگر اٹھتی ہے تو سخت تھکی اور ہاری ہوئی مایوس نگاہ یا ایک ایسی لاتعلق خالی نظر جو کسی خطرہ کے ادراک کی طاقت نہ رکھتی ہو۔یہ مطلق اس امر کا خیال نہیں کرتے کہ آج جبکہ اسلام کو سخت اندرونی اور بیرونی خطرات درپیش ہیں جو اسلامی جسم کے ایک ایک عضو، ایک ایک بند ، ایک ایک جوڑ پر چوٹیں لگا رہے ہیں اور کتنے ہی وحشی درندے ایک عرصہ گذر گیا کہ اسلام کی رگِ جان سے خون چوس رہے ہیں ان کے نزدیک صرف ایک ہی خطرہ اسلام کو لاحق ہے۔یہ خطرہ فرقہ ہائے اسلام میں پائے جانے والے مختلف عقائد کا خطرہ ہے۔کہیں تو شیعہ عقائد کا خطرہ بن کر ظاہر ہوتا ہے کہیں سنی عقائد کا ہوا بن کر نکلتا ہے کبھی یہ بریلوی عقائد کے وحشت ناک حلیے میں نظر آتا ہے کبھی یہ اہلحدیث یا اہل قرآن کے عقائد کے ڈراؤنے خواب بن کر راتوں کی نیند حرام کرتا ہے۔گو یا خطرہ صرف ایک ہی ہے جو ہزار بھیس بدلتا ہے۔یعنی اسلام کو صرف اسلام سے خطرہ ہے۔جہاں تک احمدی عقائد کا تعلق ہے اس خطرہ نے تو گو یا آفت ڈھا رکھی ہے اور اس طرح ہر سمت سے ان علماء کوگھیر لیا ہے جیسے ایک ڈراؤنا خواب ایک بچہ کے دل کو گھیر لیتا ہے اور وہ اپنے تصور میں ان وہمی بلاؤں سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ حقیقی خطرہ ان خوابوں سے نہیں بلکہ اس سانپ سے ہے جو اس کے دل کے قریب گنڈل مارے بیٹھا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ بچہ تو نیند کی حالت میں ہوتا ہے اور یہ جاگے ہوئے ہیں اور بچہ تو ڈرانے والی صورتوں سے ڈرتا ہے اور یہ ان صورتوں سے ڈر رہے ہیں جو ان کے لئے ترقی اور اسلام کے احیائے نو کا پیغام لے کر ابھری ہیں۔صرف اسی پر بس نہیں بلکہ جان بوجھ کر ان صورتوں کی طرف وہ نقوش منسوب کرتے ہیں جن کے تصور سے انہیں ڈر محسوس ہو۔چنانچہ احمدی لاکھ کہیں اور خدا کا مقدس نام لے لے کر قسمیں کھا ئیں کہ ہم اپنے محبوب ترین آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین کرتے ہیں اور تمام انبیاء سے افضل اور برتر جانتے ہیں۔آپ کے دام محبت میں سرتا پا گرفتار ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کی شریعت آخری اور کامل اور تمام بنی نوع انسان اور ہر زمانہ کے لئے ہے مگر یہ علماء نہیں مانتے اور