مذہب کے نام پر خون — Page 4
مذہب کے نام پرخون کے ساتھ بار بار مذاہب کی تاریخ کے مختلف حوالہ جات سے یہ ثابت فرماتا ہے کہ مذہب کے نام پر ظلم کرنے والے ہمیشہ یا تو لا مذہب ہوا کرتے ہیں یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر حقیقی مذہب کا شائبہ بھی باقی نہیں ہوتا اور جن کے مذہب امتداد زمانہ سے بگڑ کر کچھ کا کچھ بن چکے ہوتے ہیں یا پھر ایسے مذہبی علماء اس ظلم کے ذمہ دار ہوتے ہیں جن کا مذہب سے تعلق محض نام کا ہوتا ہے اور ان کے دل روحانیت ، رحمت ، شفقت اور خدمت خلق کے پاکیزہ مذہبی جذبات سے عاری ہوکر چالا کی ، ریا کاری اور سفا کی کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔پس ایسے مذہبی راہنماؤں کی بداعمالیاں مذہب کی طرف منسوب کرنا مذہب پر ایک بڑا بھاری ظلم ہے اور حق بات یہی ہے کہ وہ خدا جو تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے کسی مذہب کے ماننے والوں کو اپنے بندوں پر ظلم کی تعلیم نہیں دے سکتا۔قرآن کریم نے تاریخ عالم سے بعض مثالوں کو پیش فرما کر تصویر کا رخ ہی یکسر بدل دیا ہے اور پانسے کو ایسا پلٹا ہے کہ الزام دینے والے خود موردالزام بن گئے۔چنانچہ قرآن کریم اپنے دعوی کی تائید میں انبیاء کے ابتدائی زمانہ کو ایک معیار اور کسوٹی کے طور پر پیش فرماتا ہے اور بار بارمختلف انبیاء کی جماعتوں کا ذکر کر کے ان کے تاریخی حالات سے یہ استدلال فرماتا ہے کہ مذہب کی طرف سے اگر کوئی ظلم روا رکھا جاتا تو ظاہر بات ہے کہ سب سے زیادہ ظلم کرنے والے خود مذہب کے بانی ہوا کرتے یا ان کے وہ متبعین ہوتے جنہوں نے اس مذہب کو خود اس مذہب کے بانی سے سیکھا اور اسی سے تعلیم پائی اور اسی کے اسوہ کے مطابق اپنے اعمال اور اخلاق کو ڈھالا نہ کہ وہ لوگ جو ان لوگوں کے بہت بعد پیدا ہوئے اور یا تو انہوں نے مذہب کو بگڑی ہوئی حالت میں دیکھا اور اسی کی تقلید کرتے رہے یا اپنی اخلاقی گراوٹ کی وجہ سے اپنے ہی خیالات کی پیروی کرتے رہے اور اپنی مذہبی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا لیکن بظاہر یہ سب کچھ مذہب ہی کے نام پر کیا گیا۔مذہب کی جو تاریخ قرآن کریم بیان فرماتا ہے اس میں بار بار ہمیں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ ظلم تو کیا جارہا ہے مذہب کے نام پر مگر کیا جارہا ہے لا مذہب لوگوں کی طرف سے۔تشد د تو کیا جا رہا ہے خدا کے نام پر مگر کیا جا رہا ہے ایسے لوگوں کی طرف سے جو خدا کے حقیقی تصور سے ہی نا آشنا تھے۔چنانچہ قرآن کریم حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق فرماتا ہے کہ جب نوح نے