مذہب کے نام پر خون — Page 5
مذہب کے نام پرخون دنیا کو ہدایت اور نیکی کی طرف بلایا تو نوع ظالم نہیں تھے بلکہ وہ لوگ ظالم تھے جو بزور باز ونوع کی آواز کو دبا دینا چاہتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت نوح کے پیغام کوسن کر کہا :۔لَبِنْ لَمْ تَنْتَهِ لِنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ (الشعراء: ۱۱۷) کہ اے نوح! اگر تم اپنے اس مذہب سے باز نہ آئے اور اپنا موجودہ رویہ تبدیل نہ کیا تو ضرور سنگسار کر دیئے جاؤ گے۔گویا قرآن کریم کی رو سے مذہب کے نام پر ظلم سچے مذہب کے ماننے والوں پر ہوا ہے بچے مذہب کے ماننے والوں نے نہیں کیا۔پھر حضرت نوح کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال آتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے امن اور محبت اور ہمدردی اور حلم کے ساتھ دنیا کو خدا کے سچے رستے کی طرف بلایا۔ان کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں تھی ، کوئی تشدد کا حربہ نہیں تھا، کوئی ظلم کا ذریعہ نہیں تھا لیکن ابراہیم کی قوم کے سرداروں نے بھی وہی کچھ کہا جو اس سے پہلے نوح“ کے زمانہ کے لا مذہب لوگوں نے کہا تھا۔لَبِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ (مریم: ۴۷ ) کہ اگر اپنے اس عقیدہ اور تبلیغ سے باز آجاؤ تو ٹھیک ہے ورنہ میں تمہیں ضرور سنگسار کر دوں گا۔یہ الفاظ آذر نے حضرت ابراہیم سے کہے تھے۔اب دیکھئے کہ بعینہ وہی الفاظ جو حضرت نوح کے زمانے کے لامذہب لوگوں نے حضرت نوح سے متعلق استعمال کئے تھے۔حضرت ابراہیم کے زمانے کے لا مذہب لوگوں نے بھی حضرت ابراہیم سے متعلق انہیں الفاظ میں دھمکیاں دیں، اسی طرح تحقیر کا نشانہ بنایا گیا، ویسا ہی ان سے تمسخر کیا گیا اور پہلوں کی طرح ان کو بھی زد و کوب کیا گیا اور عذاب دیئے گئے مگر وہ حلم اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہے۔حضرت ابراہیم پر بھی ایک مخالفت اور فتنے کی آگ بھڑ کا دی گئی اور ظاہرا رنگ میں بھی ان کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال کر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔حضرت لوط کے وہ منکرین جو مذہب کی حقیقت سے نا آشنا تھے انہوں نے بھی مذہب ہی کا نام لے کر حضرت لوط اور حضرت لوط کے مانے والوں پر ظلم ڈھائے اور ان کو بھی اسی قسم کی دھمکیاں دی گئیں۔چنانچہ حضرت لوط کے نہ ماننے والوں نے آپ کو اپنے ملک سے نکالنے کی دھمکی دی اور